صورت نہیں سیرت
April 28, 2021
گلابی فراک
May 3, 2021

ننھا چڑا

”ابا جان!ہم سیر کرنے کے لئے جاتے ہیں۔“اماں جان بولیں:”بیٹا !بہت دور نہ جانا۔“
”ابا جان!ہم سیر کرنے کے لئے جاتے ہیں۔

اماں جان بولیں:”بیٹا !بہت دور نہ جانا۔“
ابا جان بولے:”جلد ہی گھر لوٹ آنا،نہیں تو کھانے کو چاول نہ ملے گے۔“
ننھے چڑے نے اپنی چونچ سے د±م کو کھجاتے ہوئے جواب دیا:
”ابا!کچھ پرواہ نہیں۔چاول نہیں ملے گے تو نہ سہی۔
اب ہمیں چاول واول کی کیا پرواہ ہے۔ہم خود بہت سے چاول لے کر آئیں گے۔ایک آپ کے لئے لائیں گے،ایک اماں جان کے لئے ،ایک بڑی آپا کے لئے اور ایک چھوٹی آپا کے لئے بھی لائیں گے۔


یہ کہہ کر وہ پھر سے ا±ڑ گیا۔پہلے پہل اس کا ننھا سا دل زور زور سے دھک دھک کرنے لگا۔

یوں معلوم ہوتا تھا،اب گرا کہ اب گرا۔اور جو اتنی بلندی سے گر پڑا،تو ہڈی پسلی کی خیر نہیں۔لیکن ننھا سا ہونے کے باوجود وہ بڑا ہوشیار تھا،جلد ہی سنبھل گیا۔پھر تو اس کا حوصلہ اور بھی بڑھ گیا۔اور وہ ہوا میں اونچا ہی اونچا اڑنے لگا۔
اونچے اونچے مکانوں اور درختوں سے بھی اونچا۔اپنے دل سے کہنے لگا:
”واہ جی واہ!یہ تو بڑے مزے کی سیر ہے۔اب تو بس ہم یوں ہی ا±ڑا کریں گے۔“
لیکن تھوڑی ہی دیر میں ننھا چڑا تھک گیا اور ڈولنے لگا۔اس سے پہلے کہ وہ زمین پر گر پڑتا،اسے دور سے وہ مور نظر آیا،جو سکول کی چوٹی پر لگا ہوا تھا،اور جس سے ہوا کا ر±خ معلوم کرتے ہیں۔
ننھا چڑا جوں توں کرکے اس کے پاس پہنچا اور ذرا سستانے کے لئے اس کی د±م پر جا بیٹھا اور اپنی دم کو کھجانے لگا۔مورنے جب یہ دیکھا تو سخت ڈانٹ پلائی۔
”اوپا جی!اتنی بے ادبی!چل ا±تر میری د±م پر سے۔“
ننھے چڑے نے جواب دیا:”صاحب،خفا نہ ہوں!آپ کی د±م خراب نہیں ہونے لگی۔
بھلا لکڑی بھی کبھی خراب ہوئی ہے؟“
مورنے سخت غصے سے لال پیلے ہو کر کہا:
”کیا کہا،لکڑی کی اور میری د±م؟ابے بد تمیز چڑے!یہ کیا کہہ رہا ہے تو۔ابے میری دم تو سونے کی ہے سونے کی۔سنا تم نے بے ادب پاجی۔“
اب تو چڑے سے ضبط نہ ہو سکا،جھٹ جواب میں کہا:”ابے جا بڑا وہ بن کر آیا ہے۔
جیسے ہم کچھ جانتے ہی نہیں کہ لکڑی پر سنہری رنگ پھرا ہوا ہے اور تو اپنے دل میں سمجھتا ہو گا کہ ہم بھی جانور ہیں،مگر تم اس وہم میں نہ رہیو۔تو تو سب ایک کھلونا ہے کھلونا!“
یہ کہہ کر ہنسی کے مارے ننھے سے چڑے کے پیٹ میں بل پڑ گئے۔
اور وہ ا±چھلنے لگا۔مورنے غصے میں چیخ کر کہا:
”ابے اوچڑے کے بچے!ابے کھلوناکوئی اور ہو گا۔میں تو کئی کئی میل تک مشہور ہوں اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ جب کم از کم نوسو ننا نوے لوگ میری نرالی سج دھج کو نہ دیکھتے ہوں۔
پوچھ کیوں؟یہ اس لیے کہ میں بہت خوب صورت ہوں۔“
ننھے چڑے نے مسکین صورت بنا کر کہا:”ہاں جی ،بجا فرمایا ہے حضور نے ،لیکن ذرا یہ تو فرمائیں کہ کیا ا±ڑبھی سکتے ہیں جناب؟“
مورنے ناک بھوں چڑھاتے ہوئے کہا:
”ابے اوپاجی!ابے تو کیا جانے !جو لطف ہمیں حاصل ہیں،ان کے بارے میں تونے کبھی سوچا بھی نہ ہو گا اور وہ تجھے خواب میں بھی حاصل نہ ہوئے ہوں گے۔
تجھ میں بس یہی ایک بات ہے نا،کہ تم سوکھے ہوئے پتے کی طرح کبھی اوپرچلے گئے،کبھی نیچے آگئے اور کیا ہے؟بس تم صرف ایک خوبی پر اتنا تکبر کرتے ہو اور اس پر اتراتے پھرتے ہو۔کیوں بے چڑیا کے بچے!بتا تجھ میں اور کیا خوبی ہے؟“
یہ کہہ کر مور اس زور سے ہنسا کہ وہ زور زور سے ہلنے لگا۔
ننھا چڑا ا±س کی د±م پر سے گرتے گرتے بچ گیا،مگر صاحب کیا مجال کہ ا±س نے ب±را منایا ہو،یا غصہ کا اظہار کیا ہو،بلکہ اس کی ننھی سی پیشانی پر بل تک نہیں آیا۔بولا:
”میں تو اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر کرتاہوں کہ ا±س نے مجھے اڑنے کی طاقت جیسی نعمت عطا فرمائی ہے۔
کھانے پینے کے لئے ہزاروں چیزیں بخشی ہیں۔تم ان سب چیزوں سے محروم ہو،پھر بھی اکڑتے پھرتے ہو۔اگر اِدھر کی دنیا ا±دھر ہو جائے ،تب بھی میں اس نعمت کو چھوڑ کر تیری طرح ہمیشہ ایک ہی جگہ پر کھڑا رہنا کبھی پسند نہ کروں اور تو اس بات پر اترایا ہوا ہے ،اور بہت فخر کرتاہے کہ ایک ہی جگہ جڑا ہوا ہے۔
کیا تو اس کو خوبی سمجھتاہے؟کیوں بے بتا؟“
اس دفعہ ننھا چڑا بہت زیادہ خوش تھا اور اس نے اس زور سے قہقہہ لگایا کہ اس کی ننھی سی د±م میں سے تین ننھے ننھے بال ا±کھڑ کر باہرنکل آئے۔پھر بولا:
”اور تو یہ بھی تو نہیں جانتا کہ اس وقت شہر میں کیا ہورہا ہے؟بتا بے جانتاہے؟“
مورنے جواب دیا:”میں تو صرف ایک بات جانتا ہوں۔

چڑے نے پوچھا:”بھلا وہ کیا؟“
مورنے بڑے فخر سے جواب دیا:”وہ یہ کہ اب ہوا کا رخ کس طرف ہے اور سب سے پہلے مجھے ہی معلوم ہوتاہے کہ مینہ برسنے والا ہے۔اگر تو کچھ دیر تک اور یہاں بیٹھا رہے ،تو تجھے بھی یہ باتیں سکھادوں گا۔
لے دیکھ اب پہلا قطرہ گرا ہے۔لو ابھی چند ہی لمحوں کے بعد مینہ برسے گا۔“
جوں ہی مینہ کا پہلا قطرہ گرا ،چڑے کے کان کھڑے ہوئے۔وہ خوب جانتا تھا کہ ان حضرت کا ارادہ کیا ہے۔یہ حضرت چاہتے ہیں کہ میں ان کی د±م پر بیٹھا رہوں اور جب مینہ برسے تو میں بھیگ جاو¿ں۔

ننھا چڑا فوراً اس کی د±م پر سے ا±ڑ گیا۔وہ اپنے چھوٹے چھوٹے پروں کی مدد سے جلدی جلدی ہوا کو چیرتا ہوا چلا جارہا تھا اور پھر وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا،لیکن جب وہ اپنے گھر پہنچا تو چونچ سے لے کر د±م تک مینہ میں بھیگ چکا تھا۔

ننھے چڑے کی اماں جان بولیں:”ارے شریر!تجھ سے خدا سمجھے۔کہاں تھا اب تک؟اگر بیمار ہو گیا تو میں کیا کروں گی؟“
ابا جان نے جھڑک کر کہا:”کہاں گیا تھا بے بدمعاش؟“اس کی بڑی اور چھوٹی آپا بولیں:”لاو¿ بھیا، ہمارے چاول۔ا±وئی تم تو برف کی طرح ٹھنڈے ہو رہے ہو۔“
لیکن شریر چڑے نے جیسے کچھ سنا ہی نہیں۔جھٹ سے اپنی بہنوں کے پاس گیا اور لیٹنے کے ساتھ ہی سو گیا۔