تاجکوں کے دیس تاجکستان میں

پنجاب سیاحت کا مرکزبن گیا
September 30, 2020

تاجکوں کے دیس تاجکستان میں

تاجکستان کا سفرنامہ تحریر کرنے کا مقصد پاکستان کو اپنے پڑوسی ممالک سے آگاہ کرنا ہے ، اس قبل چند ماہ قبل سفر کرغزستان پر تحریر کا تسلسل ہے ، اس بار انگوروں کے باغات اور تاجکوں کے دیس تاجکستان ہماری منزل تھی ،دوشنبے کے انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر امیگریشن کاونٹرپر چند منٹ ہی لگے ، اور ہمارا سامان آچکا تھا، جیسے ہی باہر نکلے صبح کی ٹھنڈی ہوا نے ہمارا استقبال کیا، جب ہم کراچی سے روانہ ہورہے تھے تو سخت گرمی تھی اور یہاں بیس سنیٹی گریڈ سے کم کا ماحول تھا، ہمارے میزبان قاری کریم باہر موجود تھے ، ائیر پورٹ سے مہمان خانے تک کا سفر یہاں انتہائی سحر انگیز تھا جدید اور پرانی طرز کی عمارتوں میں گذرتے ہوئے اپنی قیام گاہ پہنچے،
قارئین جمہوریہ تاجکستان (تاجک: جمہوری توجکستون) وسط ایشیا کا ایک خشکی میں گھرا ہوا (landlocked) ملک ہے۔ اس کی سرحدیں جنوب میں افغانستان، مغرب میں ازبکستان، شمال میں کرغزستان اور مشرق میں چین سے ملتی ہیں۔ یہ تاجک نسل کے باشندوں کا وطن ہے، جن کی ثقافتی و تاریخی جڑیں ایران میں پیوست ہیں اور یہ فارسی سے انتہائی قربت رکھنے والی زبان تاجک بولتے ہیں۔تاجکستان 4 ہزار قبل مسیح سے مستقل آباد ہے۔ یہ علاقہ تاریخ میں مختلف سلطنتوں کے زیر نگیں رہا ہے۔ قبل از مسیح میں یہ علاقہ باختر کی سلطنت کا حصہ تھا۔ ساتویں صدی عیسوی میں اسلام یہاں بھی داخل ہوا۔ عباسی دور کے آخر میں جب سلطنت اسلامیہ کے مختلف حصوں میں نئی ریاستیں وجود میں آئیں تو اولین ریاستوں میں سے ایک ریاست سامانی سلطنت یہاں وجود میں آئی تھی جس نے سمرقند اور بخارا کے شہر بنائے جو تاجکوں کے ثقافتی مراکز بنے۔ بعد ازاں منگولوں نے وسط ایشیا پر عارضی طور پر قبضہ کیا۔ سلطنت روس کا حصہ بننے سے پہلے یہ علاقہ امارت بخارا میں شامل تھا۔19 ویں صدی میں سلطنت روس نے وسط ایشیا پر اپنے پنجے گاڑنا شروع کیے اور تاجکستان پر بھی قبضہ کر لیا۔ 1917ءمیں زار روس کی سلطنت کے خاتمے کے بعد وسط ایشیا میں بسماچی تحریک کا آغاز ہوا جنہوں نے آزادی کے لیے سرخ افواج کے خلاف زبردست مزاحمت کی۔ لیکن اس تحریک کو کچل دیا گیا اور یہ علاقہ سوویت اتحاد کا حصہ بن گیا۔ اشتراکی دور میں یہاں مذہب بالخصوص اسلام کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا گیا اور مساجد و عبادت گاہوں کو بند کر دیا گیا۔1924ءمیں تاجک خود مختار اشتراکی جمہوریہ کا قیام عمل میں لایا گیا جو ازبکستان کا حصہ تھی لیکن 1929ءمیں تاجک سوویت اشتراکی جمہوریہ کو دستوری جمہوریہ کے طور پر الگ کیا گیا۔ ماسکو نے وسط ایشیا کی ریاستوں میں سب سے کم تاجکستان پر توجہ دی اور یہ طرز زندگی، تعلیم اور صنعت میں وسط ایشیا کی تمام ریاستوں میں سب سے پیچھے رہی۔ سامانی سلطنت کا گہوارہ رہنے والی یہ سرزمین 20 ویں صدی میں سوویت اتحاد کی باضابطہ جمہوریہ رہی جسے تاجک سوویت اشتراکی جمہوریہ (Tajik Soviet Socialist Republic) کہا جاتا تھا۔ 1970ءکی دہائی میں مختلف نظریات کی حامل خفیہ اسلامی جماعتیں قائم ہوئیں اور 1980ءکی دہائی کے اواخر میں تاجک قوم پرستوں نے اضافی حقوق دینے کا مطالبہ کیا۔ 1990ءتک علاقے میں بڑے پیمانے پر گڑ بڑ پیدا نہیں ہوئی۔ اگلے ہی سال سوویت اتحاد ٹوٹ گیا اور تاجکستان نے آزادی کا اعلان کر دیا۔سوویت اتحاد سے آزادی ملنے کے بعد تاجکستان 1992ءسے 1997ءتک زبردست خانہ جنگی کا شکار رہا۔ خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد سیاسی استحکام، غیر ملکی امداد اور ملک کے دو بڑے قدرتی ذرائع کپاس اور المونیم نے ملکی معیشت کی بہتری میں اہم کردار ادا کیا


لاءاینڈ آرڈر
پورے ملک میں ملکی قانون کی پابندی ہوتی ہے، قانون کی کوئی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جاتی، پورا ملک اسلحہ سے پاک ہے، کسی گلی، سڑک اور عمارت کے سامنے گارڈ نظر نہیں آتا، حتی کہ جیولرز کے باہر بھی نہیں ہے، سڑکوں پر اِکّا دُکّا ہی پولیس کی گاڑیاں گشت کرتی نظر آئیں، بتایا جاتا ہے کہ پچھلے پندرہ سالوں میں چوری کی صرف چار وارداتیں ہوئیں اور ان میں بھی چور گھر کی کھڑکی توڑ کر چند ہزار روپے مالیت کی اشیاءاٹھا کر گیا، قتل کی واردات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، پچھلے ایک عشرے میں کوئی گاڑی چوری نہیں ہوئی، ہمارے رہبر و دوست کریم نے بتایا کہ قانون کی پاسداری کی وجہ سے امن امان بہت ہی اچھا ہے۔


جفا کش شہری
یہاں کی عوام عمومی طور پر غریب ہے، عام لوگوں کی آمدنی سو ڈالر سے زیادہ نہیں ہے، مگر یہ اس کے باوجود جرائم کی طرف قدم نہیں اٹھاتے کیونکہ یہ لوگ جانتے ہیں یہ جرم تو کرلیں گے مگر قانون سے نہیں بچ سکیں گے چنانچہ یہ روکھی سوکھی کھالیتے ہیں، لیکن کسی کی چیز اٹھانے یا کسی کو لوٹنے کا نہیں سوچتے، گھر کے تقریبا تمام افراد کام کاج کرتے ہیں، محنت سے محبت کرتے ہیں، جی نہیں چراتے، آپ کسی بچے کے ہاتھ میں ایک سومانی رکھ دیں تو خوش ہوجاتا ہے، بھیک مانگنے والے نہ ہونے کے برابر ہیں، حکومت نے ہر چیز پر منظم انداز میں گرفت رکھی ہے، ملکی مساجد حکومت کی ماتحت ہیں، عوام کو مذہبی آزادی حاصل ہے لیکن یہ اپنی آزادی کا دائرہ دوسروں تک نہیں پھیلا سکتے، گھر اور مسجد میں ادا کرنے کی اجازت ہے تاہم کھلے عام درس و تبلیغ کی اجازت نہیں، عوام میں اسلام کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے مگر ابھی مزید دینی و علمی محنت کی ضرورت ہے، اختلافی موضوعات پر گفتگو قطعا ممنوع ہے، یہاں ہر قسم کا لٹریچر اور کتابیں لانے کی اجازت نہیں، اسی لئے یہاں آنے والوں سے پہلے ہی کہہ دیا جاتا ہے کہ کوئی کتاب نہ لیکر جائیں۔

پر امن شہری
لاءاینڈ آرڈر اور کام کاج کی مصروفیت کی وجہ سے یہاں کی عوام ہر وقت اپنے کام میں مگن ہے، ان کے چہروں کا اطمینان ان کے اندر کی آسودگی کو ظاہر کرتا ہے، لوگوں کے چہروں پر ٹینشن اور پریشانی، دکھائی نہیں دیتی، ہر فرد خوشی سے مسکراتے ہوئے چل رہا ہے، یہاں مرچ مصالحہ لگا کر سنسنی خیز خبریں پھیلانے کی روش نہیں ہے، آپ کا میڈیا آپ کا چہرہ ہے جو آپ کی پوری دنیا میں عکاسی کرتا ہے، پُر امن قومیں اپنے حالات باہر نہیں سناتیں!


سیاحت کا فروغ
سیاحت کا فروغ ابھی شروع ہوا ہے اس سے قبل لوگ کم ہی تاجکستان کا رخ کرتے تھے ، مگر اب تاجکستان حکومت کی جانب سے ای ویزہ کی سروس میں آسانی سے سیاح آرہے ہیں ، مگر ان کی تعداد کم ہے ، آنے والے چند برسوں میں تاجکستان بھی پڑوسی ممالک ازبکستان کرغزستان کی طرح ایک سیاحتی ملک بن جائے گا ، حکومتی سطح پر آہستہ مگر تبدیلیاں آرہی ہیں ، ضرورت کی تمام سہولیات میسر ہیں،
حکومت نے درالحکومت دوشنبے سمیت ملک کے دیگر صوبوں میں کی پرانی عمارات کی تزئین کرکے تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرلیا ہے، سیاحت کے لئے دسمبرجنوری (سردی کے دو مہینے) اورجون جولائی (گرمی کے دو مہینے) کے علاوہ آٹھ مہینے خوب ہیں، کراچی سے آنے والے اگر فلائی دبئی سے براستہ دبئی آئیں تو ڈبل مزے لے سکتے ہیں، دبئی کے ریگستان اور تاجکستان کے سبزہ زار کی تفریح!


رہن سہن

یہ مہمان نواز اور خدمت گزار قوم ہیں، مزاج میں شائستگی، طبع میں حلم و ظرافت اور رہن سہن میں سادگی ہے، کھانے ک میز سجانے کے ماہر ہیں، ان کی میز پر بیٹھ جائیں تو میز کو کھانے کی درجنوں چیزوں سے بھر دیتے ہیں، کھانے سے قبل ٹماٹر کھیرے کا روایتی سلاد، سرکہ گاجر کا اچار، ثقافتی روٹی، لیموں کی سبز چائے، ڈرائی فروٹ اور مختلف پھل (انگور، خربوز، تربوز) دیکھ کر انسان حیران ہوجاتا ہے کہ کھانا کیا کھائے کیا نہ کھائے؟ شام کے وقت ریسٹورنٹ، کلب اور بازار بھر جاتے ہیں اور لوگ کھانے پینے اور لوازمات سے لطف اندوز ہوتے ہیں، مقامی لوگ موسیقی کے بھی شوقین ہیں، بعض ریسٹورنٹ میں یہ لائیو بھی ہوتا ہے، مگر ہمارا ایسی جگہوں پر جانا نہیں ہوا۔
لباس میں بھی فیشن کی بجائے عام سی شرٹ، ٹی شرٹ اور جینز پینٹ کا رواج ہے، جبکہ تاجکستان کی خواتین مقامی روایتی لباس کو پسند کرتی ہیں اور اسی میں کام کاج کرتے ہوئے ہلکا پھلکا لباس پہننے میں آسانی اور سہولت محسوس کرتی ہیں ،ایک بات اور خواتین کے لباس کے حوالے تاجکستان حکومت نے باقاعدہ ایک کتاب جاری کررکھی ہے کہ انھیں کیسا لباس پہننا چاہی ہے۔