ہم بھی کسی کا خواب تھے
July 28, 2021

اندھیر نگری سے

معیز الدین حیدر
حامد صاحب کی شادی کو پانچ سال ہوچکے تھے۔ حامد صاحب کے یہاں دوسرابیٹا پیدا ہوا تھا۔ حامد صاحب اپنے والدین کے ساتھ ہی رہائش پزیر تھے۔ والدہ کوئی ستّر سے اوپر ہوچکی تھیں لیکن عمر کے حساب سے کافی چاک و چوبند تھیں۔ حامد صاحب ایک پرائیویٹ دفتر میں نوکری کرتے تھے اور اپنی ضروریات کے حساب انکی تنخواہ اور دفتر کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات ان کے لیے کافی تھیں۔حامد صاحب کا یہ دوسرا بیٹا قریبی واقع ایک فوجی ہسپتال میں ہی پیدا ہوا تھا۔ حامد صاحب کی بیوی ہسپتال کے ایگزیکٹو کمرے میں داخل تھیں ۔ حامد صاحب کو پیدائش کے خرچ میں کوئی دشواری نہیں تھی کیونکہ ان کو اپنے دفتر سے پینل ملا ہوا تھا۔ آج حامد صاحب کی بیوی کو ہسپتال میں داخل ہوئے دوسرا روز تھا ۔حامد صاحب کی والدہ ہی اپنی بہو کے پاس ٹھہری ہوئی تھیں۔

 

ویساے دیکھا جائے تو یہ ایک فوجی ہسپتال تھا جہاں عام شہری کی کھال ادھیڑ دی جاتی ہے ۔ یہ صرف فوجی ہسپتالوں میں ہی نہیں بلکہ تمام فوجی اداروں میں ایسا ہی ہے جہاں عام شہری کی کھال ادھیڑ دی جاتی ہے،فوجی تعلیمی ادارے ہوں یا ان کی کوئی رہائشی اسکیم ، اگر شہری یہاں گیا تو مطلب گیا!۔ واپس آتے ہیں مدعے پر کہ حامد صاحب کی والدہ اپنی بہو کے ساتھ ہسپتال میں ٹھہر ی ہوئی تھیں ۔

صبح کے وقت کی بات ہے کہ ایک نرس حامد صاحب کی والدہ کے پاس آتی ہے اور کہتی ہے:
” بی بی یہ دو گولیاں منگوالیں یہ زچّہ کو دینی ہیں“۔
حامد صاحب کی والدہ کہتی ہیں : ” بیٹا کونسی گولیاں ؟ ہمارا تو پینل ہے تو آپ ہم سے گولیاں کیوں منگوا رہے ہیں “۔
نرس کہتی ہے: ” نہیں نہیں بی بی یہ گولیاں آپ ہی کو منگوانی ہونگی“۔
والدہ: ” بیٹا ہمارا پہلا پوتا بھی یہیں ہوا ہے جب تو کوئی دوا ہم سے نہیں منگوائی گئی سب ہسپتال والوں کی طرف سے تھا کیونکہ ہمارا پینل ہے“۔

نرس: ” بی بی ہمیں کچھ نہیں معلوم ۔ ہمیں آپ سے منگوانے کو کہا ہے بس ! اب آپ جلدی سے لادیں یہ زچّہ کو دینی ہے ابھی“۔
حامد صاحب کی والدہ نے کہا: اچھا بیٹا ٹھیک ہے ! ویسے یہ ایک گولی کتنے کی ہے ؟“۔
نرس نے جواب دیا: ” جی یہ ایک ۹۰۰ روپے کی ہے اور آپ کو نیچے ہی ہسپتال کی اپنی فارمیسی سے ملے گی “۔
مڑتے مڑتے نرس مزید کہتی ہے: ” اور ہاں ایک کام کریں کہ ابھی ایک گولی لے آئیں ، ایک شام میں لے آیئے گا“۔

حامد صاحب کی والدہ آہ بھرتی ہوئی چل دیتی ہیں نیچے واقع فارمیسی کی جانب اور فارمیسی پہنچ کر ایک گولی خرید نے کے بعد اسکا بل بنوا کر واپس بہو کے پاس آجاتی ہیں ۔ اور نرس بہو کو وہ گولی دے دیتی ہے۔
اب عصر کے بعد حامد صاحب ہسپتال تشریف لے آتے ہیں ۔ کمرے میں داخل ہو کر صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہیں ،بیوی کی خیریت طلب کرتے ہیں اور والدہ کے پاس بیٹھ جاتے ہیں کہ والدہ بول کر پڑیں :
” دیکھ حامد یہ انھوں نے ۹۰۰ کی گولی منگوائی ہے اور کہہ رہے ہیں ایک اور چاہیے رات میں ۔

میں نے کہا کہ ہمارا پینل ہے لیکن اس نرس نے نہ سنی“۔
ٓحامد صاحب : ” ارے! ایسے کیسے ! آئیں آپ چلیں میرے ساتھ دیکھوں میں ! کس نرس نے کہا تھا؟ بتائیں مجھے زرا!“۔
حامد صاحب اپنی والدہ کے ہمراہ پہنچ جاتے ہیں اس نرس کے پاس اور پوچھتے ہیں :
” ہاں بھئی ؟ آپ نے یہ گولی کیوں منگوائی ؟ جب کہ ہمارا پینل ہے!“۔
نرس وہی جواب دیتی ہے:” جناب ہمیں نہیں معلوم ہمیں منگوانے کے لیے کہا گیا تھا ! میں اس معاملے میں کچھ نہیں کرسکتی آپ مجھے نہ بولیں !“۔

حامد صاحب آنکھیں چڑھا کر نرس کی طرف دیکھتے ہیں اور اپنی والدہ سے کہتے ہیں : ” چھوڑیں اماں کیا کریں اب کس کے پاس جائیں رہنے دیں!“۔
اور منہ لٹکائے واپس کمرے میں آجاتے ہیں ۔
اب عشاء کے وقت ڈاکڑنی راوٴنڈ پر تھی تو وہ حامد صاحب کی بیوی کے کمرے میں آتی ہے ، جائزہ لیتی ہے ،دوا کا پوچھتی ہے اور واپس چلی جاتی ہے۔بیس منٹ بعد کمرے میں نرس آتی ہے او ر حامد صاحب کی والدہ سے کہتی ہے:
”بی بی آپ کو ڈاکٹر صاحبہ نے بلوایاہے“۔

یہ ڈاکٹرنی ایک پرائیوٹ ڈاکٹرنی تھی جو ہسپتال میں ایک کانٹریکٹ کی بناء پر کام کر رہی تھی۔
حامد صاحب کی والدہ ڈاکٹرنی کے کمرے میں داخل ہوتی ہیں اور کہتی ہیں :
”جی آپ نے بلوایا تھا؟“۔
ڈاکٹرنی: ” جی جی بلوایا تھا۔ وہ مجھے پوچھنا تھا کہ یہ گولی آپ نے صبح منگوائی تھی کیا؟“۔
یہ وہی گولی تھی جو نرس نے منگوائی تھی ۔

والدہ : ” جی منگوائی تھی “۔
ڈاکٹرنی : ” کس نے کہا تھا آپ کو لانے کے لیے؟“ ۔
حامد صاحب کی والدہ : ” جی وہ نرس نے کہا تھا“۔
ڈاکٹرنی اندر سانس بھر کے باہر پھونک مارتے ہوئے کہتی ہے: ” کتنے کی دی آپ کو یہ گولی؟“ ۔
والدہ : ” جی ۹۰۰ روپے کی “۔
ڈاکٹرنی ماتھے پہ شکن لاتے ہوئے اپنے برابر میں پڑا بکسا ٹٹولتے ہوئے کہتی ہے: ” اچھا میں آپ کو یہ دو گولیاں دے رہی ہو ں ایک میڈیکل والے کو واپس کروا کے اپنے پیسے لے لیجیے گا اور دوسری گولی ہم آپ کی بہو کو دیتے ہیں ابھی! اور اس نرس کی طرف سے میں معافی چاہتی ہوں“۔