بے لوث ( افسانہ )
March 19, 2021
ہمارا کیا بنے گا!!
April 16, 2021

“بدکردارعورت”

گھرسے باہرقدم رکھنےسے پہلےماں باپ بیٹیوں کویہی سکھاتے ہیں کہ اپنی اورہماری عزت کاخیال رکھنا۔بیٹی کےلئےماں باپ کے اس بھرم کا لاج رکھنا کسی ا زمائش سے کم نہیں ہوتا۔ساری زندگی دامن بچاتے بچاتے گزرگئی لیکن شاید ایک بیٹی اپنےماں باپ کےسکھائے ہوئے سبق کی لاج نہ رکھ سکی۔
بات ہورہی ہے ایک ایسی لڑکی کی جس نےاپناتعلیمی سفراس نیت سےمکمل کیاکہ وہ کبھی بھی اپنےماں باپ کی تربیت پرانگلی نہیں اٹھنے دے گی۔
کیونکہ روزانہ سکھائے جانے والے سبق کو کیسے فراموش کیاجاسکتاتھا۔
زندگی کے 18سال بڑے ہنسی خوشی گزرگئے،لیکن ایک ایسا وقت آیا جب ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جوبظاہرپرسکون شخصیت کامالک ہونےکے ساتھ حقیقتا بھی ویساہی تھا۔وہ بات کرتا تواسکی گفتگو کااندازدل میں اترجاتاتھا،جیسےمایوسی اس کے آس پاس سے بھی کبھی نہ گزری ہو۔

ایک ہی ملاقات میں وہ لڑکی اس کی اتنی دلدادہ ہوگئی کہ ہرروزاس سےملاقات کی خواہش پال لی۔

ایک ایساشخص جوبلکل انجان،جس کےبارے میں کوئی علم ہی نہیں،اس کے خیال میں ڈوب جانا۔شاید محبت کی طرف پہلا قدم تھا۔
وقت گزرنے کےساتھ ساتھ ان دونوں میں دوستی اتنی گہری ہوگئی کہ لڑکی نےاپناہردکھ سکھ اس شخص کےساتھ بانٹا شروع کردیا۔تعلیم مکمل کرنےکےبعدلڑکی نوکری کرناچاہتی تھی،خوش قسمتی سے لڑکی کونوکری بھی وہاں ملی جہاں وہ شخص کام کرتاتھا۔
ہردن اس چہرے کادیدارہونا،جسکی صرف خواہش تھی،کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔چندروزبعد دونوں نےایک دوسرے سے محبت کااظہارکردیااورشادی کرنے کا فیصلہ بھی کرلیا۔لیکن محبت کونکاح میں تبدیل کرنا لڑکی کےلئےمشکل تھا۔کیونکہ لڑکی کاتعلق ایک ایسے خاندان سے تھاجہاں پسندکااظہارکرنا کسی جرم سے کم نہیں سمجھاجاتا تھا۔دونوں نےیہ فیصلہ کرکے زندگی گزارنا شروع کردی کہ وقت گزرنےکےساتھ ساتھ اپنی فیملی کوقائل کرنا ا?سان ہوجائے گا۔

پوری زندگی والدین عزت کاخیال رکھنے کےاصول سکھاتے رہےلیکن یہاں ا?کرمحبت نےبھی اپنےاصولوں کادائرہ کھینچ دیا۔لیکن محبت کا دائرہ کاروالدین کے اصولوں سے زیادہ سخت تھا۔جس میں کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔محبت کاپہلا اصول یہ سکھایاگیاکہ میری اجازت کے بغیرزندگی میں کوئی قدم نہیں اٹھانا،کسی سے بات کرنے سے پہلے اس بات کا خیال رکھنا ہےکہ میں کسی کی عزت ہو،کسی سے دوستی کا ہاتھ ملاوتوسمجھ لینا کہ مجھ سے تمہارا کوئی تعلق نہیں،سچ اس حد تک بولنا کہ جھوٹ بولنے کی گنجائش ہی باقی نہ رہے۔
محبت میں پابند ہونے کامعاہدہ دستخط کروایاجارہاتھا۔لڑکی نے سب ایساہی کیا کیوں کہ اسے دنیا میں سب سے زیادہ اسی شخص پریقین تھا کیوں کہ وہ سمجھتی تھی کہ محبت کے یہ اصول پابندی نہیں،بلکہ اس کی حفاظت کےلئے ہیں۔
محبت کےاصولوں کودفاتری امورکےساتھ لے کرچلنا لڑکی کے لئے ایک اورامتحان تھا۔ظاہری سی بات ہے کہ دفترمیں کام کے سلسلے میں ایک دوسرے سے بات چیت کرناضروری تھی،لیکن لڑکی کام کے سلسلے میں بھی ایک دوسرے سے بات چیت کرنےمیں احتیاط کرتی تھی کہ کہیں محبت کےاصول میں کوئی کوتاہی نہ ہوجائے،اوراس کے دامن پر یہ داغ بن کرنہ رہ جائے،جب کہ یہ اصول یکطرفہ نہیں ہونے چاہئیے تھے۔
محبت میں قربانی دونوں طرف سے ہونی چاہئیے۔
وقت گزرتا گیا، لڑکی نےسوچاکہ کسی سے بات کرلینا گناہ نہیں ہے،البتہ محبت میں شرک کرنا گناہ ضرورہے۔اسی سوچ میں اس نے ایک ایسے شخص کی دوستی کوقبول کرلیاجواسے باقی سب سے مختلف لگتا تھا۔اس شخص کی نظرمیں عورت کا احترام اورلحاظ تھا،باقی لوگوں کی طرح وقت گزارنا نہیں تھا بلکہ دوستی میں چٹان بن کررہناتھا۔
اس شخص کے ساتھ بھی دوستی اتنی گہری ہوگئی کہ اس لڑکی نے اپنے محبوب کوبھی اس بات سے ا?گاہ نہیں کیا کہ وہ کسی انجان شخص سے دوستی کر بیٹھی ہے۔
کچھ روزگزرنے کےبعد جب لڑکی کے محبوب کوپتہ چلا تو اس نے لڑکی کولعن طعن کرنا شروع کردیا،اورتیسرے انسان کی وجہ سے برسوں کی محبت کوختم کرنے کافیصلہ کرلیا۔جب کہ اس تیسرے شخص کا تعلق صرف ایک اچھے دوست تک محدود تھا اس کے باوجود اس نے لڑکی کی نہ سنی۔
لڑکی اس قدراپنے محبوب کوچاہتی تھی کہ اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ تیسرے شخص سے دوستی برقرارنہیں رکھے گی،اس نے معافی مانگ لینے کے بعداپنی محبت کو نہیں گنوایا۔
یہ شک کی پہلی سیڑھی تھی۔اس شخص نے لڑکی کومعاف توکردیا لیکن یہ بات ذہن سے نہ نکال سکا کہ لڑکی نے محبت کےاصولوں کو توڑکرمیری محبت کی توہین کی ہے۔جب بھی دونوں میں جھگڑا ہوتا اس تیسرے شخص کاذکرضرورکیاجاتا۔
یقین ٹوٹ چکاتھا،اوراس یقین کودوبارہ برقراررکھناممکن نہیں تھا۔
تیسرے شخص سے دوستی ختم کرنے کافیصلہ توکرلیا،لیکن دوستی ختم نہ کی۔وجہ یہ تھی کہ لڑکی کے پاس اس جیسا کوئی دوست نہیں تھا۔اتنےکم وقت میں دوستی اتنی گہری ہوگئی تھی کہ اسے ختم نہیں کیاجاسکتاتھا۔کچھ روزبعد ایسا ہواکہ اس شخص نےاچانک لڑکی سے محبت کااظہارکردیا،کچھ عرصہ بعد شادی کی پیشکش بھی۔
جوکہ ناقابل یقین تھا،لڑکی ایک عجیب کشمکش میں مبتلاہوگئی کہ دوستی اچانک محبت میں کیسے بدل گئی،لڑکی کے ذہن میں عجیب وغریب وسوسے پیداہونےلگے کہ کہیں یہ شخص محبت کے نام پراسے گمراہ تونہیں کررہا،اب وہ اس بات کاذکرکسی سے کربھی نہیں سکتی تھی،اور نہ ہی اس کی محبت کوتسلیم کرسکتی تھی کیونکہ وہ پہلے سے ہی کسی سے پیار کرتی تھی۔ا?ہستہ ا?ہستہ وہ شخص اس قدرلڑکی کی محبت میں گرفتارہوگیاکہ دیوانگی کی کوئی حدنہ رہی،لڑکی کواس شخص کی دیوانگی نے اس قدرمتاثرکیاکہ اس نے اسے بالا?خرحقیقت مان ہی لیا اوراس کے بارے میں سنجیدگی کامظاہرہ کرنے لگی۔
اس نے فیصلہ کیاکہ وہ اس شخص کا محبت میں ساتھ نہیں دے سکے گی لیکن دوستی کو اچھےطریقے سے نبھائے گی جومرضی ہوجائے اوراس نےکوشش بھی کی۔
تیسرے شخص کی طرف دوستی کےبڑھتےقدم لڑکی کے محبوب کے لئےناقابل برداشت تھے،اس شخص نے لڑکی کےباپ کواطلاع دی کہ ا?پ کی بیٹی کاکردارمشکوک لگ رہا ہے،نوکری کروانےکی کیا ضرورت ہے؟ایک باپ جس کوکال کرکے یہ کہا جائے کہ ا?پ کی بیٹی ا?پکی عزت کی حفاظت نہیں کرپارہی اس باپ کے لئے وہ دن قیامت سے کم نہیں ہوگا۔
الزام لگانے والا الزام لگانے کے باوجود پرسکون اور مطمئن تھا۔لیکن شاید اس نے یہ نہیں سوچاکہ لڑکی کی دل ا?زاری ہوگی۔اس کے والدین پرکیاگزرےگی؟
دونوں کےدرمیان غلط فہمی اس انتہاکوپہنچ گئی کہ کئی روزلڑتے جھگڑتےاورتعلق ختم کرنے کی باتیں چلتی رہتی اور لڑکی اس شخص کے ساتھ رہنے کے واسطے دیتی رہتی،شاید لڑکی اس شخص کےدل سےاپنی جگہ ختم کرتی جارہی تھی۔
دوسری طرف وہ تیسرا شخص اس کے ساتھ حوصلہ بن کر کھڑارہتا۔خود بےشک ٹوٹ جاتا لیکن اپنی دوستی کابھرم نہیں ٹوٹنے دیتا تھا۔
ان تمام وجوہات کی بنا پرلڑکی کے گھروالوں نے بھی اس سے منہ موڑلیاتھا،لڑکی گھروالوں کااعتماد بھی کھو چکی تھی۔اب اس کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔ایک بار پھراس نے معافی کاسہارا لے کراپنے رشتے کوبچانے کی کوشش کی اتنی ذلت ورسوائی کے باوجود اسے اپنا محبوب پھربھی عزیزتھا۔

جوہوناتھا،وہ توہوچکا،والدین کے اصولوں کے ساتھ محبت کے اصولوں کی بھی توہین ہوچکی تھی۔اس کے باوجودلڑکی اپنے محبوب کے ساتھ ہی زندگی گزارناچاہتی تھی کیونکہ اس کے ذہن میں صرف کسی ایک کاہونا ضروری تھا۔اس کےلئے تیسرا شخص کبھی بھی ا?پشن نہیں تھا اسی صرف اس کی دوستی عزیز تھی۔
تیسرے شخص کی دوستی کوعزیزرکھتے رکھتے نوبت یہاں تک ا?پہنچی کہ لڑکی کےمحبوب نے طوائف کانام بھی دے دیا اورکہا کہ تم ایک گندی عورت ہو،گندی عورت کبھی ٹھیک نہیں ہوسکتی،تم اس قابل نہیں ہوکہ تم سے شادی کی جائے۔
تمہیں کوئی بھی نہیں اپنائے گا۔ایک بارپھرلڑکی کے والدین کوکہا گیاکہ ا?پ کی بیٹی کوایک کوٹھا بھی کم ہے۔اس کی حوس کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔اپنے کردار کی صفائیاں پیش کرنے کےباوجود اس شخص نے ایک نہ سنی،اس الزام کے جواب میں والدین نے بھی بیٹی کاساتھ دینےکی بجائے ایک بارپھربیٹی کوہی غلط مان لیا۔ہرباراپنی ہی بیٹی کوقصوروارجان کراس سے منہ موڑلیا۔
ایک باربھی اس تمام ترصورتحال کی وجہ جاننے کی کوشش نہیں کی گئی۔الزام لگانے والاکونساپارسا تھا؟جو محبت کے اصول وہ اپنےمحبوب کے لئے بناچکاتھا اس کی عملی زندگی میں ان اصولوں کاکوئی کردارنہیں تھا،لیکن سب نے اس کوالزامات کواولین ترجیح دی ماسوائے اس تیسرے شخص کے۔
میں ایک عورت ہوں،فطرتاتم سےکمزور
جب تم مجھ پرچیختے ہو،میں سہم جاتی ہوں

اتنےگھٹیاالزمات بھی کوئی اپنی محبت پرلگاسکتاتھاکیا؟الزامات اس قدربےبنیاد تھے کہ وہ لڑکی بظاہرتوپرسکون اورباہمت دکھائی دیتی تھی لیکن وہ اندرسے ٹوٹ کرچکناچورہوچکی تھی۔
ایسے حالات میں صرف تیسرے شخص کاکندھا ہی سہارے کےلئے کافی تھا۔الزامات نےلڑکی کے ذہن پراتناگہرااثرچھوڑاکہ لڑکی نے اپنی ذات کوہمیشہ کےلئے ردکردیا اوران الزامات کی تردیدتک نہ کی،بلکہ خود کوطوائف ہی تسلیم کرلیا۔جب تمام ترصورتحال کا تیسرے شخص کوعلم ہواتواس کے دل پرکیا بیتی ہوگی؟اس سے بہترکوئی نہیں جانتا کیوں کہ وہ کبھی بھی اپنے پیارکےبارے میں ایک لفظ بھی نہیں سن سکتاتھا۔
وہ خود توٹوٹ چکا تھا لیکن اس نے لڑکی کو اس بات کاعلم تک نہ ہونےدیا۔لڑکی کوحوصلہ دیتے ہوئے کہنےلگاکہ ا?پ کیا ہیں؟مجھ سے بہترکوئی نہیں جانتا،کوئی کچھ بھی کہے،مجھے ا?پ پریقین ہے۔ا?پ کوکسی کے بھی بارے میں سوچنے کی ضرورت نہیں ہے۔ایسی باتوں سے حوصلہ تو ملتا ہے لیکن ٹوٹا ہوا انسان مشکل سے ہی جڑتا ہے۔
وقت توگزرہی رہاتھالیکن لڑکی اپنی ذات پرلگے الزامات کوبھلانہیں پارہی تھی۔
اس نے اپنی ذات سے ہی سوال کرنے شروع کردئیےکہ میں واقعی ایسی لڑکی ہوں؟کیا مجھ میں اورطوائف میں کوئی فرق نہیں؟اس کے دل میں ایک طوائف سے ملنے کی خواہش پیداہوگئی کیونکہ وہ اپنے اورطوائف میں واضح فرق دیکھنا چاہتی تھی،حالات ایسے ہوگئے کہ بعض اوقات لڑکی نے یہ تصور کرناشروع کردیا کہ وہ پاگل ہوگئی ہے۔اس کے پاگل پن کی یہ حد تھی کہ اس نے اپنے ا?پ کو مختلف طریقوں سے نقصان پہنچانا شروع کردیا۔
موت سے ڈرتی تھی اس لئے بات خودکشی تک نہ پہنچ سکی۔ورنہ حالات خودکشی والے ہی تھے۔
ایک روزلڑکی نے تیسرے شخص کی موجودگی میں خود کوبرابھلا کہنا شروع کردیا،جبکہ اس شخص کو لڑکی کے بارے میں کچھ بھی غلط سنناقبول نہیں تھا۔وہ روکتا رہاکہ کچھ غلط نہ کہو،سب ٹھیک ہوجائے گا،کافی سمجھایا بھی لیکن لڑکی اس بات کو سمجھنے کےلئے تیار ہی نہیں تھی۔
وہ تیسرا شخص اس بات کوبرداشت نہ کرسکااس نے غصے میں وہاں سے چلے جانا ہی مناسب سمجھا۔لڑکی کوکیاعلم تھا کہ وہ دوستی کاہاتھ بڑھانے والا شخص کچھ وقت کےلئے نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئےچلاجائے گا۔ایک ہی وقت میں دوپہاڑوں کا ٹوٹ جانا کسی عذاب سے کم نہیں تھا۔اس کاچلے جاناجائزتھالیکن اس کے جانے کا وہ مناسب وقت نہیں تھا۔سہارے ہی اکثر بے سہاراکرتے ہیں۔
فقط ایک جملہ ہے لیکن حقیقت سے اس کابہت گہراتعلق ہے۔
اس حقیقی کہانی میں قصوروارکون؟شاید لڑکی کاہی قصور ہے،محبت کے اصولوں پرعمل کرتی تو اتنی بدنامی کاسامنانہ نہ کرناپڑتا،باقی سب نے ساتھ توچھوڑدیالیکن افسوس ذلت ورسوائی نے اس کا دامن تھام لیا۔محبت نبھا لیتی یا دوستی کوسرفہرست رکھ لیتی،اسی کوتاہی نے اسے کہیں کانہیں چھوڑا۔
خیرجوبھی ہوا،اس بات کااندازہ ہواکہ کسی سے دوستی کرلینا بھی محبت میں شرک کرنے کے برابرہے۔
لیکن محبت میں یہ بات بھی شرط ہےکہ قربانی دونوں طرف سے ہو لیکن یہاں تو صرف ایک کوہی کٹہرے میں لایاجاتارہا،کیا کسی کواپنی قید میں رکھنااوراس پرحکمرانی کرتے رہنامحبت ہے؟دوستی اورمحبت دونوں نے کسی قابل نہیں چھوڑا۔کبھی کبھی ایسے حالات پیدا ہوجاتے ہیں کہ وقت ہمیں کچھ سیکھاناچاہتاہے،لوگوں کی پہچان کرواناچاہتاہے،برے حالات میں خود ہی اٹھناپڑتا ہے۔کوئی بھی کسی کی لئے جیتا مرتا نہیں ہے،عورت کے کردارپرہی انگلی اٹھائی جاتی ہے۔انسان کواپناحوصلہ اورہمت خود بننا چاہئیے اورچوٹیں کھاکراس قدرمضبوط ہونا چاہئیےکہ دوبارہ کوئی اسے گرانےکی ہمت نہ کرے۔۔۔