بھرتی کا خشکی کا راستہ

سردی کی گرما گرمی
March 30, 2021
تعلیمی نظام سے معافی مانگیں
March 30, 2021

بھرتی کا خشکی کا راستہ

سید عارف نوناری
بے روزگاری میں کمی کیوں نہیں آتی۔کیا ہمارے ملک میں یہ مسئلہ مسئلہ ہی رہے گا یا حل ہونے کی توقع ممکن ہے۔ہمارے یہاں بے روزگاری میں اور آسامیوں کو پر کرنے میں اصل میں کچھ بے پرواہی سی برتی جاتی ہے۔اگر ملازمت کے لئے طریقہ انتخاب میں تبدیلی لائی جائے تو ممکن ہے کہ بے روزگار حضرات کو اپنی قابلیت کے مطابق روزگار میسر آسکے لیکن اس سلسلہ میں حق تلفی کا عمل بڑی دیر سے جاری ہے اور کبھی کسی نے طریقہ انتخاب برائے ملازمت کی طرف توجہ نہیں دی اگر ملازمت کے حصول کے لئے ہر شہری کے لئے یکساں اصولوں پر عمل درآمد کیا جائے تو ممکن ہے کہ حق دار کو اپنا حق مل جائے اور بے روزگار افراد کو قابلیت کے مطابق روزگار مل جائے۔
انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھنے سے ایک طرف تو بے روزگاری کم کرنے میں آسانی اور دوسری طرف رشوت و سفارش میں کمی یقینی طور پر ممکن ہو جائے گی۔

جہاں تک میری استدعا یا رائے کا تعلق ہے تو وہ سرکاری ونیم سرکاری محکموں میں بھرتی کے طریقہ کار سے متعلق ہے۔
بورڈ آف ایجوکیشن کی طرز پر بورڈز آف مقابلہ امتحانات برائے محکمانہ تقرر تشکیل دئیے جائیں۔

مرکزی دفتر اسلام آباد میں اور صوبائی دفاتر صوبائی دارالخلافہ میں قائم کئے جائیں۔
مذکورہ دفاتر میں غیر متعلقہ افراد(چاہے جتنے بھی با اثر کیوں نہ ہوں)کا داخلہ قطعی ممنوع قرار دیا جائے۔سکیورٹی‘ایوان وزیراعظم کی مانند سخت ہونی چاہئے۔
معیاری تحریری مقابلہ امتحانات ہونے چاہئیں،کمپیوٹرائزڈ نتیجہ بمعہ حاصل کردہ نمبر اخبارات میں شائع ہو۔

انٹرویو سسٹم بالکل ختم کیا جائے۔صرف ان افراد کو تقرر نامہ جاری کئے جائیں جو تحریری مقابلہ امتحان میں حاصل کردہ نمبروں کے میرٹ پر آتے ہوں کیونکہ اکثر مستحق افراد کے ساتھ انٹرویو میں نا انصافی کی جاتی ہے جسے کوئی بھی شخص چیلنج نہیں کر سکتا۔
تمام محکموں میں خالی آسامیاں بورڈ آف مقابلہ/ امتحان برائے محکمانہ بھرتی میں بھیجی جائیں جو بذریعہ اخبارات مشتہر کئے جائیں بمعہ طریقہ کار جیسا کہ فیڈرل / صوبائی پبلک سروس کمیشن کی جانب سے ہوتا ہے۔

مقابلہ امتحان کے لئے جو پرچے تیار کئے جائیں ذمہ دار ممبران بورڈز سے قرآن پر حلق لیا جائے کہ پرچے کی پیشگی اطلاع باہر نہیں نکلنی چاہئے۔
بورڈز میں عملہ کی تعداد ضرورت کے مطابق کم از کم رکھی جائے اور تمام سسٹم کمپیوٹرائزڈ ہونا چاہئے۔
کسی بھی بااثر شخص کی سفارش ختم کی جائے اگر کسی شخص کو سفارش یا رشوت کے جرم میں مرتکب پایا جائے تو اس کی سخت سے سخت سزا مقرر کی جائے۔

تمام محکموں کی جانچ پڑتال بذریعہ انڈیپنڈنٹ ایجنسی کی جائے جو عملہ بغیر کسی امتحان پاس کئے بھرتی کیا گیا ہو فوراً چھٹی دی جائے تاکہ ازسرنو مذکورہ مراحل سے گزر کر بھرتی ہو سکے۔
جو شخص پہلے سے کسی محکمے میں ملازم ہو اسے امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہ دی جائے ایسے موقع پر افسران بالا کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے سٹاف پر کڑی نظر رکھیں‘اگر کوئی ملازم اس جرم میں مرتکب پایا جائے تو فوراً نوکری سے برخاست کیا جائے۔

تمام سکیل تعلیم کے مطابق تقسیم کئے جائیں اور امیدواروں کو مطلوبہ تعلیم کے مطابق امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی جائے۔اس سے زیادہ تعلیم یافتہ دوسرے کا حق نہیں لے سکیں گے اور ترجیحی بنیاد پر کسی کو نہ رکھا جائے۔
ریٹائرڈ افراد کو قطعی دوبارہ ملازمت نہ دی جائے۔تجربہ کی شرط ختم کی جائے اس مقصد کے لئے متعلقہ محکمہ اپنے ٹریننگ سنٹر میں مختصر عرصہ کی ٹریننگ دے تاکہ ملازمت پانے والا اپنے فرائض وقوانین و ضوابط سے بخوبی آگاہ ہو سکے۔

عمر کی حد میں شرائط نرم کی جائیں۔تمام پرائیویٹ اداروں پر بھی یہ قوانین لاگو کئے جائیں۔
اگر حکومت اس طریقہ کار پر عمل درآمد کرے تو تمام مستحقین کو اپنا حق ملے گا۔تعلیمی معیار بہتر ہو گا۔ہر طالب علم اپنی کامیابی آپ حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔یہ نہیں سوچے گا کہ ماما‘چاچا وزیر ہیں کام ہو جائے گا۔علاوہ ازیں ملازمت کی بھرتی میں قابلیت اور تجربہ کو ضرور مدنظر رکھا جائے اور سیاسی مداخلت کے خاتمہ کے لئے پارلیمنٹ سے قوانین پاس کروائے جائیں کہ جو بھی ملازمین کی بھرتی میں سیاسی مداخلت کرے اس کی رکنیت قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی ختم ہو جائے گی۔
بھرتی کا عمل اسی طریقہ سے شفاف رہ سکتا ہے۔اسی طرح سرکاری ملازمین کی ترقی کے عمل میں سینارٹی کے علاوہ تجربہ اور تعلیمی قابلیت کی بنیاد پر آو¿ٹ آف ٹرن ترقی بھی کی جائے جس سے سرکاری ملازمین کی تعلیمی قابلیت اور ڈگریاں ضائع نہ جائیں۔اور اس سلسلہ میں تعلیمی اضافی ترقیاں جو کہ مشرف کے دور میں ختم کی گئیں تھیں ان کی بحالی عمل میں لائی جائے تاکہ سرکاری ملازمین اپنی تعلیم میں اضافہ کرنے کا جو عمل 2001ئ سے روکا ہوا ہے،جاری ہو سکے۔