آدم کا بیٹا اورحوا کی بیٹی

شادیوں میں برکت کیسے آئے گی….؟
January 7, 2021
 ناخنوں کے حسین ترین بنائیے!
February 1, 2021

آدم کا بیٹا اورحوا کی بیٹی

تحریر:افضال احمد
معاشرے کی ابتدا اس وقت ہوئی جب حضرت آدم علیہ السلام اس دنیا میں ظہور پذیر ہوئے اور انہیں کی پسلی سے انسانیت کی والدہ حضرت حوا ؑ جلوہ فرما ہوئیں یہ پہلا انسانی معاشرہ تھا جو اس دنیا میں معروضِ وجود میں آیا اور حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام اس معاشرے کے دو ابتدائی فرد تھے حضرت حواعلیہا السلام کی حضرت آدم علیہ السلام کی پسلی سے تخلیق فرمائی گئیں ان کی تخلیق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حضرت حواعلیہا السلام ‘ حضرت آدم علیہ السلام کا جزو ہیں جزو کی کل کے بغیر کوئی حیثیت نہیں ہوتی اور کل بڑی جزو کے بغیر نامکمل ہوتا ہے لہٰذا دونوں ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہوئے۔حضر ت آدم علیہ السلام کے ظہور سے تخلیق انسانیت کا آغاز ہوا اور وجودِ حوا علیہا السلام سے انسانیت کی تکمیل ہوئی۔ حضرت آدم علیہ السلام کی تنہائیوں کو قرار مل گیا انہیں اپنی زندگی کا ساتھی و ہمسفر مل گیا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے ”عورتیں تمہارا لباس ہیں ور تم ان کا لباس ہو“ ۔
جب تم ایک دوسرے کیلئے لباس کی طرح زیبائش ہو‘ زینت ہو‘ پردہ پوش ہو اور دائمی ساتھی و ہمراز ہو تو پھر ان سے صرف فرائض اور ذمہ داریوں کا مطالبہ ہی کیوں کرتے ہو ان کے حقوق کا بھی خیال رکھو کیونکہ حقوق و فرائض تمہارے درمیان ایک قدر مشترک ہیں جب تک اس اشتراک کو تسلیم نہیں کیا جاتا زندگی میں بہار نہیں آسکتی مراد کہ پھول نہیں کھل سکتے منزل کا پھل نہیں مل سکتا۔
عورت پر اسلام کے بہت سے احسانات ہیں اسلام نے ہی عورت کو انسان کا درجہ دیا ہے اور انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اسلام نے عورت کو وہ تمام معاشرتی حقوق عطا کئے ہیں جن کی وجہ مستحق تھی بحیثیت انسان عورت کو مرد کے برابر درجہ دیا اسلام نے عورت کو ہر حیثیت میں چاہے وہ ماں ہو یا بیٹی ہو، بہن ہو یا رفیقہ حیات، انتہائی عزت و تکریم بخشی ہے اور مرد کا عورت کے ساتھ ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کا رشتہ بنایا ہے عورت کو مقام و مرتبہ اور عزت یوں دی کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے رکھ دی۔ اسلام نے عورت کو گھر کی ملکہ قرار دیا لیکن اسے معاشی ذمہ داریوں سے بری الذمہ قرار دیا ہے معاشی ذمہ داریوں کا بوجھ مرد پر ڈالا ہے۔لیکن آج کے معاشرے میں یہ سب نہیں ہو رہا جس وجہ سے ہم سب قدرتی آفات کی لپیٹ میں ہیں۔
اسلام نے عورت کو میراث میں ہر حیثیت سے حصہ دار ٹھہرایا ہے چاہے وہ ماں کی حیثیت سے ہو یا بیٹی یا بہن کی حیثیت سے ہو۔ تاریخ انسانی کا مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام سے پہلے عورت ایک طویل عرصے سے مظلوم چلی آرہی تھی عورت ہر قوم اور ہر خطہ میں مظلوم رہی ہے۔ یونان، روم، عراق، عرب، ہند اور چین میں ہر جگہ اس پر بے پناہ ظلم ہو رہا تھا۔ بازاروں میں اس کی خریدوفروخت ہوتی تھی۔ عورت کا کوئی ذاتی تشخص اور کوئی معاشرتی مقام موجود نہ تھا حیوانوں سے بدتر سلوک اس کے ساتھ کیا جاتا تھا۔ یونان میں تو ایک لمبے عرصے تک یہ بحث جاری رہی کہ عورت کے اندر روح بھی ہے یا نہیں اہل عرب زمانہ جاہلیت میں عورت کے وجود کو موجب عیار سمجھتے تھے جب کسی کے ہاں لڑکی پیدا ہوتی تو اس کا شرم سے سرجھک جاتا تھا اور کوئی برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ کوئی اس کا داماد بنے اسی لئے وہ لڑکی کو زندہ درگور کر دیتے تھے عورتیں واراثت سے محروم تھیں۔
اب اگر ہم جدید دور کی طرف آئیں تو جدید یورپ نے آزادی کے نام پر عورت کو ایک جانور بنا دیا ہے جہاں نہ اخلاقی اقدار ہیں نہ مذہبی افکار بس عیاشی کا ایک آلہ ہے جسے مغربی مرد اپنے انداز سے استعمال کررہا ہے اور بے حیائی کے گہرے سمندر میں اسے یوں غرق کر دیا ہے کہ اس میں باقی سب کچھ تو ہے مگر نسوانیت کی کوئی رعنائی باقی نہیں رہی۔ مردوں کے کام بھی اس کے ذمے لگا دیئے گئے ہیں۔ فیکٹریوں، دکانوں اور کھیتوں کو عورتوں کے حوالے کر دیا گیا ہے کیونکہ وہ آزاد ہیں اور یہ آزادی کا ثمر ہے جو مرد حضرات نے اسے عطا کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو جوڑے کی صورت میں بنایا ہے مرد اور عورت دونوں مل کر انسانیت کی تکمیل کرتے ہیں پھر زندگی کی نوعیت اس قسم کی ہے کہ اس ملاپ کا مستقل ہونا ضروری ہے اس مقصد کیلئے اللہ تعالیٰ نے نکاح کا طریقہ مقرر کیا ہے۔ نکاح ایک مرد اور عورت کو مستقل خاندانی تعلق میں جوڑتا ہے اس طرح دونوں ایک دوسرے سے جڑ کر خود اپنے تقاضوں کی تکمیل کرتے ہیں اور معاشرے کے تقاضوں کی بھی شادی کے ذریعے عورت کو زندگی کا ایک ایسا ساتھی ملتا ہے جو اس کا ہر لحاظ سے خیال رکھتا ہے اور اس کی ہر ضرورت پوری کرتا ہے اور عورت کو اپنی زندگی کا محافظ و نگران ملتا ہے رہبر و رہنما ملتا ہے جس سے عورت بالکل محفوظ ہو جاتی ہے اوراسے کسی قسم کی پریشانی نہیں ہوتی۔
حق مہر عورت کی عصمت‘ عزت اور مستقبل کا ضامن ہوتا ہے اور عورت کیلئے سکیورٹی کی حیثیت رکھتا ہے اس سے عورت کی عزت و آبرو اور جان و مال محفوظ رہتا ہے اس سے ازدواجی بندھن میں مضبوطی اور پائیداری آتی ہے اگر مہر کا مال معقول ہو تو مرد مال کے نقصان کی وجہ سے طلاق دینے سے بھی کتراتا ہے اس لئے عورت کو چاہئے کہ نکاح کے وقت مہر کے تعین میں شرم سے کام نہ لے بلکہ اپنی اور خاوند کی مالی حیثیت کے مطابق مناسب مہر مقرر کرے تا کہ اس کی ازدواجی زندگی محفوظ رہ سکے۔ عورت کو مہر معاف نہیں کرنا چاہئے اگر عورت نے مہر معاف کر دیا تو اس نے خود ہی اپنی سکیورٹی ختم کر ڈالی اور اپنے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا حالات تبدیل ہونے کا پتہ نہیں ہوتا یہ کسی وقت بھی اچانک تبدیل ہو سکتے ہیں اگر عورت کو مہر کی ضرورت نہیں یا وہ لینا نہیں چاہتی تو مہر معاف نہ کرے اس کا آسان حل یہ ہے کہ وہ خاوند سے نقد وصول نہ کرے مہر کو موخر کر دے اس شرط کے ساتھ کہ عندالطلب یعنی جب وہ مطالبہ کرے تو اس کی ادائیگی شوہر پر لازم آئے گی۔ اس طریقے سے عورت محفوظ رہے گی۔
عورتوں کو یہ بات بھی ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ مہر میں کمی یا معافی کا اختیار صرف اور صرف عورت کے پاس ہے اس کی مرضی کے بغیر نہ کوئی مہر میں کمی کر سکتا ہے اور نہ ہی معاف کر سکتا ہے۔ مرد کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ مہر ایسا قرض ہے جس کی ادائیگی مرد پر ہر صورت لازمی ہے سوائے اس کے کہ عورت اسے معاف نہ کر دے اگر وہ مہر اا نہیں کرتا اور اس کا انتقال ہو جاتا ہے تو مہر اس کے ذمہ قرض رہے گا اور اس کی میراث اس وقت تک تقسیم نہیں ہو سکے گی جب تک اس کی بیوی کا مہر ادا نہیں کر دیا جاتا کیونکہ مہر اس پر قرض تھا اس کے ورثاءکیلئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس کے قرض کی ادائیگی کریں۔
آج کے دور کا یہ المیہ ہے کہ اکثر لوگ اسلام کی تعلیمات سے لا علمی کی وجہ سے مہر کو باقی رسموں کی طرح محض ایک رسم تصور کرتے ہیں خاص کر عورتوں کو تو مہر کی افادیت و اہمیت اور اس کی شرعی حیثیت کا پتہ ہی نہیں اور ان کے والدین نکاح کے وقت خود ہی باقی رسموں کی طرح تھوڑا سا مہر مقرر کرکے خود ہی وصول کر لیتے ہیں۔ عورت تک اس کا مال پہنچتا ہی نہیں ہے۔
اب یہاں پر میں عورتوں کو بھی کہنا چاہوں گا کہ حق مہر کو اپنے سر پر سوار بھی مت کریں زیادہ حق مہر لکھے ہونے کی وجہ سے اپنے شوہروں کی تذلیل مت کریں بات بات پر طعنے مت دیں اچھی زندگی گزاریں۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ عورتیں بات بات پر غریب شوہر کو حق مہر کے طعنے دیتی ہیں اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ غریب شوہر حق مہر کی رقم تو ادا نہیں کر پاتا لیکن اپنی بیوی کو قتل ضرور کر دیتا ہے۔ تو میانہ روی سے زندگی گزارنی چاہئے۔ عورت کو اپنے حقوق کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہئے۔
حضور کریم نے عورت کی فطرت کو واضح کرنے کیلئے عورت کو ایک ٹیڑھی پسلی کی مانند قرار دیا ہے جس طرح پسلی ٹیڑھی ہوتی ہے بالکل اسی طرح فطرتاً عورت میں ٹیڑھا پن پایا جاتا ہے اگر پسلی کی طرح عورت کو سیدھی کرنے کی کوشش کریں گے تو پسلی کی طرح ٹوٹ جائے گی لیکن سیدھی نہیں ہو گی اس لئے حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی اس سے فائدہ اٹھایا جائے جیسا کہ حدیث پاک میں ہے کہ اور عورتوں کو وصیت کرو کیونکہ عورتیں پسلی سے پیدا کی گئی ہیں اور بہت ٹیڑھی چیز پسلی میں اوپر کی جانب ہے پس تو اس کو سیدھا کرنا چاہئے تو توڑ دے گا پس تو اگر اسے چھوڑ دے گا تو ہمیشہ یہ اپنی حالت میں ٹیڑھی رہے گی پس عورتوں کے حق میں بھلائی کی وصیت کو قبول کرو۔ (صحیح مسلم)
ازدواجی زندگی کو پر سکون اور کامیاب بنانے کیلئے ضروری ہے کہ میاں بیوی کے مابین باہمی اعتماد و اتحاد اور مکمل ہم آہنگی سے پیار و محبت اور الفت و چاہت پیدا ہوتی ہے جس سے ازدواجی زندگی پر سکون بن جاتی ہے۔ ازدواجی زندگی کو پر سکون اور پر لطف بنانے کیلئے ضروری ہے کہ میاں بیوی کے مابین پیار و محبت اور الفت و چاہت ایک دوسرے کیلئے پائی جائے۔حضور اکرم نے عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آنے اور ان کے ساتھ اچھا برتاﺅ کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔
عورت کو تھوڑی سی خراش آئے تو ہر جگہ شور ہو جاتا ہے حوا کی بیٹی کے ساتھ ظلم ہوا ہے اب میں پوچھتا ہوں جب حوا کی بیٹی آدم کے بیٹے پر ظلم کرے تو وہ آدم کا بیٹا کیا کرے؟ آج کل زیادہ تر ہو بھی ایسا ہی رہا ہے کہ لڑکے ‘ لڑکیوں سے زیادہ کمپرومائز کر رہے ہیں اور لڑکیوں کے دماغ ساتویں آسمان پر ہیں تو جیسے حوا کی بیٹی کے حقوق ہیں ایسے ہیں آدم کے بیٹے کے بھی کچھ حقوق ہیں۔ بہت سی جگہوں پر حوا کی بیٹی کا ایک جھوٹا آنسو آدم کے بیٹے کے خلاف فیصلہ سنانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اے بہنوں خدا را اپنے شوہروں سے منہ پھاڑ کر بدتمیزی کرنا چھوڑ دو اور اے بھائیو! آپ بھی اپنی بیویوں پر بے جا کی تنقید اور ڈانٹ ڈپٹ چھوڑ دو۔