نوٹ: ڈیئر عمر دی گریٹ ، لڑکی کی اپنی ماں کیساتھ سیلفی والی تصویر اہم ہے!

تعلیم نسواں کی ضرورت و اہمیت
April 28, 2021

نوٹ: ڈیئر عمر دی گریٹ ، لڑکی کی اپنی ماں کیساتھ سیلفی والی تصویر اہم ہے!

 میں کبھی پوری زندگی بھی آپکی خدمت گزار رہوں تو حق ادا نہیں کر سکتی
شکریہ مما۔ ۔ ۔ !
تحریر: مہوش احسن
آپ جانتی ہیں آپ وہ ہستی ہیں جنھوں نے مجھے معصومیت کے دنوں سے لے کر پروان چڑھنے تک اور ابھی تک جینے کی ہزاروں وجوہات بخش رکھی ہیں جب میں پیدا ہوئی تو پتہ نہیں سب کے بیٹی کی پیدائش پہ کیا تاثرات ہوں گے پر آپ خوش تھیں بہت خوش آپ جانتی تھیں آپ کے گھر رحمت آئی ہے اسلیے آپ نے اپنے ھاتھوں سے پہلا جوڑا بنا کر پہنایا مجھے وہ دوسری بار تھا جب آپ نے تحفظ دیا مجھے ان نو ماہ کا تو میں کبھی پوری زندگی بھی آپکی خدمت گزار رہوں تو حق ادا نہیں کر سکتی اس تحفظ کو تو چوم چوم کر سر آنکھوں پہ رکھوں تب بھی وہ نزاکت میری محبت میں نہیں آ سکتی جس نزاکت سے آپ نے مجھے اپنے خون سے سینچا ہے ماں میں آپ کے بخشے تحفظات کی بے پناہ شکرگزار ہوں
ہر وہ پل جب مجھے دیکھ دیکھ کر آپ مسکراتی ہو میری زندگی کا حج ہوتا ہے کتنے ثواب کما کے دے دیتی ہو مجھے ماں میں ان سارے ثوابوں کی شکر گزار ہوں
پہلی بار جب میری انگلیوں کی پوروں کو آپ نے چوما ہوگا میں یقینن تب پہلی بار مسکرائی ہوں گی آپ کے ہونٹوں کا لمس پا کے مجھے وہ پہلا پیار اور آخری سانس تک جو کبھی ختم نہیں ہو سکتا پیار دینے کا شکریہ ماں جب انگلی پکڑ کر بابا مجھے چلنا سیکھا رہے ہوں گے تو آپ بار بار انکی طرف دیکھتی ہوں گی کے کہیں مجھے گرا نا دیں اس فکر کا شکریہ ماں پوری رات ایک سائیڈ پہ سوتی تھیں آپ کے کہیں سائیڈ بدلنے پہ میری آنکھ نا کھول جائے مجھے بازو پہ سلا کے سیدھی لیٹی رہتی تھیں تھکنے پہ بھی بازو نہیں ہٹاتی تھیں کہیں میں بےسکون نا ہو جا¶ں اتنی ساری محبت کا شکریہ ماں
جب میرے کان سلوائے تھے آپ نے اس چاہت کے ساتھ مجھے سونے کی بالیاں پہنائیں گی تو اس وقت مجھ سے زیادہ آپ روئی تھیں ماں میرے درد کو سیمٹ لینی والی میری جنت سو بار شکریہ آپ کا ماں.. مجھے یاد ہے کے جب میں چلنے کے اور چیزوں کو سمجھنے کے قابل ہوگئی تو چاندی میں ڈوبی پازیب پہنائی تھیں آپ نے مجھے میری نرم پیروں کی تلیاں جب فرش پہ لگتی تھی اور میں دوسرا قدم اٹھا کے آگے بڑھتی تھی تو اس چھن چھن کی آواز پہ مجھے دیکھ دیکھ قربان ہوتی تھیں ماں اس جذبہ ایثار کا شکریہ ماں مجھے تو سمجھ ہی نہیں آ رہا وہ پل لکھوں جب میں مسکراتی تھی تو آپ کو پوری دنیا حسین لگتی تھی یا اس بات کو واضحات دوں کے کیسے بابا کا غصہ میری طرف دیکھ کے پی جاتی تھیں آپ یا اس بات کا شکریہ ادا کروں کے جب بابا نے آپ کو تھپڑ مارا تھا اور آپ نے آنکھوں سے آنس¶ں گرانے سے پہلے ہی مجھے گھر میں لگے چینبیلی کے پھولوں کا پہلے سے بنا پڑا ہو گجرا اٹھا کے پہنا دیا کیوں کے آپ جانتی تھی مجھے کلائیائی سفید پھولوں سے سجانے کا اس قدر شوق ہوتا تھا کے میں سب کچھ بھول کے جھوم اٹھتی تھی یہاں تک کے اس دن آپ کا درد بھی نہیں دیکھ سکی میں ماں مجھے اس پریشانی سے بچانے کا شکریہ ماں الفاظ بہت ہیں اور سمجھ آج بھی ویسی کی ویسی آپکو لے کے ناسمجھ ہے کے میں کچھ بھی الفاظوں کو ہیرے موتیوں میں جڑ لوں نا آپ کی دی خوشیوں کا مول ادا نہیں کر سکوں گی ماں مجھے قرآن پڑھایا مصنف جیسا تحفہ دیا آپ نے ماں میں آپکی ہزار بار شکر گزار ہوں ماں جانتی ہیں جب بھی آپ کی یاد بے حد ستانے لگتی ہے میں وہی قرآن پاک کھول کے بیٹھ جاتی ہوں اور مجھے ثواب بھی مل جاتا ہے اور دل کو سکون بھی اس زندگی بھر ملنے والے ثواب کی میری حقدار ماں لاکھوں بار شکرگزار ہوں میں آپکی مجھے ضبط اور صبر کی بنا کچھ بولے جو دلیل آپ نے اس وقت دی تھی جب آپ سلینڈر پھٹنے کی وجہ سے جل گئی تھیں ساری کی ساری اور تب بھی آپکو فکر تھی کہیں آپکی چیخیں مجھے خوف میں مبتلا نا کر دیں اور اپنا جھلستا جسم اندھیرے میں چھپا دیاتھا آپ نے وہ خاموش درس تھا صبر کا اے ماں مجھے وہ دنیا کی ڈیمانڈ جو ہے وہ صبر سیکھانے کا شکریہ ماں..
مماں میں آپ سے محبت کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکتی بس مجھے آج جب سسرال میں کچھ بھی برا لگتا تو میں بھی مسکرا کے ٹھیک ویسے ٹال دیتی ہوں جیسے آپ نے بابا کی مار ٹال دی تھی کیوں کے میں جانتی ہوں میری آنکھ سے گرا ایک آنس¶ں آپکو رات کے اندھیرے میں پوری رات رلاتا رہے گا کیا ہوا جو نظروں سے اجھل ہوں آپ کی پر اس جہان میں وہ واحد ہستی ہی آپ ہیں جنکالمس میں ہر وقت محسوس کرتی ہوں اپنے ساتھ میں شرمندہ ہوں مماں کے میں لفظ جوڑ نہیں پا رہی آپ کی شان میں کچھ لکھنے کے لیے مجھے اپنی محبت بیان کرنا نہیں آ رہا مماں بس آپ پہ پیار ہی پیار آ رہا ہے میری کامیابیوں کی دعا کرنے والی ان کا جشن منانے والی میری ھاتھوں کو مہندی سے رچانے والی میرے تن کو خوبصورت رنگ برنگی کپڑوں سے ڈھکنے والی میری مسکراہٹوں کو اپنا کل اثاثہ سمجھنے والی مماں جان میری محبت کی بھی آپ وارث ہیں وہ وارث جس پہ سے اپنا سب کچھ گھول کے وار دوں میں مماں مجھ سے اور نہیں لکھا جا رہا میرا قلم اتنا انمول کہاں اس کو یہ نایاب کام کہاں آتا ہے کے وہ آپکی عظمت کو بیاں کر سکے ماں
بس میں اتنا کہنا چاہوں گی اس دن جب آپکو اندھیرے میں اپنا جلتا جسم چھپاتے دیکھا تھا آج تک میں اس اندھیرے سے نکل نہیں سکی ماں مجھے فوبیا ہے اندھیرے کا لائٹ جاتی ہے تو بوکھلا جاتی ہوں آپکو تو وہ درد یاد ہی نہیں مجھے خوش دیکھ کر ہی آپ جی رہی ہیں پر وہ آگ مجھے آج بھی جلاتی ہے مماں مہوش کو آپ سے بے حد بے حد بے حد محبت ہے مماں میرے ساتھ ہمیشہ رہیے گا مجھے کبھی زندگی میں خدا نے موقعہ گر دیا کچھ مانگنے کا تو میں آپ کی اس جہاں اور اس آخری اور ہمیشہ رہنے والے جہاں میں عزت چاہوں گی وہ مرتبہ مانگوں گی جو آپ سے پہلے کبھی کسی کا نا ہو آپ کو کبھی گرم ہوا نا لگے کبھی نا روئیں آپ کبھی پسینہ بھی نا آئے میری مماں میری چاہت آپ پہ قربان ہو جا¶ں میں.. آپ میری رول ماڈل ہیں مماں ہیں اور رہیں گی میری حسین و جمیل ملکہ کیسے تیری محبت کا حق ادا کروں ایک آدمی نے اپنی والدہ کو کندھوں پر بیٹھا کر طواف کروایا تھا تو اس نے نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سوال کیا:
“کیا میں نے اپنی والدہ کا حق ادا کردیا؟”
تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“نہیں بلکہ تو نے ابھی ایک رات جب،جب اس نے تمہیں اپنی سوکھی جگہ لٹایا اور خود گیلی جگہ لیٹی اس کا حق ادا نہیں کیا۔”
اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ماں باپ کے حقوق ساری زندگی ادا نہیں ہوسکتے۔اگر تم ستر سال تک خانہ کعبہ کا طواف کرکے اس کی نیکیاں اپنے والدین کو ہدیہ کرتے ہو تب بھی تم ان کے ایک آنسو کے قطرے کا بوجھ ہلکا نہیں کرسکتے۔
ماں باپ کی خدمت کا اندازہ اس حدیث سے لگایا جاسکتا ہے۔
حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
“میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے سنا کہ وہاں کوئی شخص قرآن پاک کی تلاوت کررہا ہے،جب میں نے دریافت کیا کہ قرآن پاک کی قرآت کون کررہا ہے؟ تو فرشتوں نے بتایا کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صحابی حارثہ بن نعمان ہیں۔حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن وہ تو ابھی زندہ ہیں تو جنت میں آواز کیسے.
فرشتوں نے کہا کہ اس نے اپنی ماں کی ایسی خدمت کی ہے کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ حارثہ جب تلاوت کرے تو پوری جنت کو سنا¶.سبحان اللہ مماں جان دیکھیں تو کہاں میں ناچیز آپکی چاہت کا مول دے سکوں گی بھلا
بس میں آپکو بتانا چاہتی ہوں آپ میری زندگی کی ہر روز کی عید ہیں آئی لو یو سو مچ مماں..
اللہ ہمیں بھی اپنے والدین کی خدمت کرنے والا بنا دے. آمین
اے میرے رب! جس طرح والدین نے مجھے (رحمت و شفقت سے) بچپن میں پالا ہے
اسی طرح تو بھی ان کے حال پر رحم فرما..آمین