احتساب کے بغیر ناکام جمہوریت
December 9, 2020

”مجھے خلع چاہیے!“

تحریر عبدالوارث ساجد
اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے ناپسندیدہ عمل ”طلاق“ ہے۔ اللہ اس سے ناراض ہوتا ہے اور شیطان خوش جب میاں بیوی کے درمیان علیحدگی ہوتی ہے تو شیطان کو سب سے زیادہ مسرت ہوتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں بھی پہلے پہل طلاق کے واقعات کو بہت برا سمجھا جاتا تھا میاں بیوی کے درمیان بڑے بڑے مسائل پر بھی طلاق کی نوبت نہیں آتی تھی بلکہ برداشت اور تحمل سے ہر سانحہ کو برداشت کر لیا جاتا تھا مگر طلاق کی صورت میں خدائی ناراضی نہیں لی جاتی تھی۔ اب زمانہ ایسا آ گیا ہے کہ طلاق کا حق رکھنے والے مرد گھر جوڑنے کے لیے طلاق نہ دیں تو عورتیں خود خلع لینے عدالت جا رہی ہیں۔
ہمارے ملک میں بالخصوص پڑھی لکھی ملازمت پیشہ خواتین کی جانب سے خلع لینے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے لاہور شہر کی عدالتوں کا حال یہ ہے ہے کہ صرف لاہور شہر میں ہر روز 20 سے زائد خواتین خلع حاصل کر رہی ہیں اور ان کی تعداد دن بدن بڑھتی چلی جا رہی ہے یہ وہ خواتین ہیں جو تعلیم یافتہ اور باشعور ہیں ایسا کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کریں توقانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ طلاق کی شرح میں اضافہ کی بڑی وجہ خاندانی نظام میں فریقین کے درمیان عدم برداشت ہے، میاں بیوی اپنی ذاتی اناءکو چھوڑ دیں تو طلاق سے بچا جا سکتا ہے۔ میاں بیوی زندگی کے ہمسفر ہیں کوتاہی اور قصور دونوں طرف سے ہو سکتا ہے مگر طلاق اور خلع یہ پاکستانی معاشرے کی تباہی کا سبب ہے اور خاندانی نظام میں بہت بڑا بگاڑ ہے میاں بیوی ہی نہیں بچوں کے لیے بھی اذیت بھری سزا ہے بچوں کو اپنی زندگی میں وہ حق نہیں ملتا ہے جو والدین کے ذمہ ہوتا ہے بچوں کو باپ کا سایہ میسر نہیں آتا اور باپ کی کمی انہیں زندگی بھر محسوس ہوتی ہے۔ مجموعی طور پر خلع میں اضافے کے رجحان کو معاشرے کے لیے خطرناک ہے۔ مستقبل میں خاندانی نظام کو بری طرح متاثر کرنے کا پیش خیمہ ہے۔ کہ پڑھے لکھے طبقے میں خودسری اور ضدی پن کا عنصر بڑھتا جا رہا ہے جو معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔
وقت نے بہت کچھ تبدیل کر دیا ہے اور اس کے اثرات بھی بھیانک ہیں پہلے پہل بچوں کی شادی دو خاندان مل کر کرتے تھے، ایک دوسرے کی طرف آنے جانے مل بیٹھنے سے شادی سے پہلے ہی بہت کچھ طے ہو جاتا تھا ایسے اسباب جو عموماً شادی کے بعد لڑائی جھگڑے کا سبب بنتے ہیں ان کا خاتمہ دونوں خاندان کے بڑے مل بیٹھ کر طے کر لیا کرتے تھے منگنی اور شادی کے درمیانی وقت میں دونوں خاندان ایک دوسرے کو قریب سے دیکھ لیتے تھے یوں کمی کوتاہی احساسات سب جان لیا جاتا تھا اب زیادہ تر شادی خاندان کی رضا مندی کے بغیر لڑکا لڑکی خود ہی کرنے لگے ہیں ابتداءکی ملاقاتیں پیار محبت میں بدل جاتی ہیں تو سب کچھ سہانا معلوم ہوتا ہے اور جب لڑکا لڑکی شادی کا فیصلہ کرتے ہیں تو پھر اپنی ہی بات سامنے رکھتے ہیں خاندان کی فکر نہیں کرتے اور شادی کے بعد جب زندگی معمول پر آتی ہے تو شادی کے بعد کے مسائل انہیں ڈرﺅانی لگتے ہیں لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں اور پھر معاملہ خلع یا طلاق تک چلا جاتا ہے دونوں طرف سے خاندان کا شادی میں نہ ہونا ایک بڑی وجہ ہے اسی لیے خلع کے یہ کیس تیزی سے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔
میاں بیوی کا ایک حسین رشتہ ہوتا ہے مگر معاشرتی عدم برداشت نے میاں بیوی جیسے مقدس رشتے میں دراڑیں ڈال دیں ہیں گھریلو جھگڑوں کے باعث خلع کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے رواں گیارہ ماہ میں 8 فیملی عدالتوں میں خلع کے 13800 دعوے دائر ہوئے جبکہ 6707 خواتین کو خلع کی ڈگریاں جاری کیں۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ طلاق کی شرح میں اضافے کی بنیادی وجہ عدم برداشت ہے جبکہ کیبل کلچر و سوشل میڈیا بھی خاندانی نظام کو تباہ کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، ماہرین قانون کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے خاندانی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے باہمی ہم آہنگی ہونا بہت ضروری ہے۔
عورت کی طرف سے خلع لینے پر پہلے پہل لوگ کہتے تھے کہ ایسا مغربی ممالک میں ہوتا ہے مشرق کی یہ روایات نہیں لوگ مشرقی روایات کی مثالیں دیا کرتے تھے اب مشرق مغرب کی تمیز بھی ختم ہو گئی ہے زمانہ تیزی سے بدلتا چلا جا رہا ہے عورت کی آزادی کے نام پر معاشرے میں بگاڑ زیادہ ہونے لگا ہے۔
مغربی ممالک نے عورت کے حقوق پر استحصال زیادہ کیا ہے اس کی دیکھا دیکھی مشرقی عورت بھی باغی بنتی چلی جا رہی ہے۔ اگر ہم حقائق اور اعدادوشمار کی روشنی میں مغربی معاشرے میں عورت کے حقوق کا جائزہ لیں تو انتہائی مایوس کن صورت حال سامنے آتی ہے۔ خاندان جو کسی بھی معاشرے میں انسان کے تحفظ و نشوونما کی اکائی کی حیثیت رکھتا ہے عورت کے تقدس کے عدم احترام کے باعث مغربی معاشرے میں شکست وریخت کا شکار ہے، جس کا لازمی شکار عورت ہی بنتی ہے۔ امریکہ کے صرف 1993ءکے اعدادوشمار کے مطابق 2.3 ملین ہونے والی شادیوں میں سے 1.3 ملین طلاق پر منتج ہوئیں ان حالات کے پیش نظر محکمہ مردم شماری (Bureau of Census) نے پیشین گوئی کی کہ ہر 10 میں سے 4 شادیوں کا انجام طلاق ہو گا، ملک میں ہونے والی 60 فیصد طلاقیں 25 سے 39 سال کی عمر کے جوڑوں میں ہوتی ہیں صرف ایک سال میں ان طلاقوں سے ایک ملین بچے متاثر ہوئے عموماً طلاق کے بعد 75 فیصد سے 80 فیصد افراد دوبارہ شادی کرتے ہیں حتیٰ کہ ملک کے اکثر لوگ دوسری یا تیسری شادی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جن کی طلاق کا امکان پہلے سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ اب یہی صورتحال مشرق میں ہر طرف دکھائی دینے لگی ہے خاندانی نظام بری طرح سے منتشر ہو رہا ہے اور عورت خود خلع کے لیے لڑنے مرنے پر اتر آئی ہے بلاشبہ اسلام کی آمد عورت کے لیے غلامی، ذلت اور ظلم و استحصال کے بندھنوں سے آزادی کا پیغام تھی، اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کا قلع قمع کر دیا جو عورت کے انسانی وقار کے منافی تھیں اور عورت کو وہ حقوق عطا کیے جس سے وہ معاشرے میں اس عزت و تکریم کی مستحق قرار پائی جس کے مستحق مرد ہیں مگر عورت جو مغربی چلن اپنا رہی ہے یہ اس کے لیے سوائے تباہی کے کچھ نہیں۔
اس کے برعکس جو کچھ اسے اسلام نے عطا کیا وہ اس کی سلامتی پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تخلیق کے درجے میںعورت کو مرد کے ساتھ ایک ہی مرتبہ میں رکھا ہے، اسی طرح انسانیت کی تکوین میں عورت مرد کے ساتھ ایک ہی مرتبہ میں ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایاپھر اسی سے اس کا جوڑا پیدا فرمایا پھر ان دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلا دیا۔“
عورت پر سے دائمی معصیت کی لعنت ہٹا دی گئی اور اس پر سے ذلت کا داغ دور کر دیا گیا کہ عورت اور مرد دونوں کو شیطان نے وسوسہ ڈالا تھا، جس کے نتیجے میں وہ جنت سے اخراج کے مستحق ہوئے تھے جبکہ عیسائی روایات کے مطابق شیطان نے حضرت حواءعلیہا السلام کو بہکا دیا اور یوںحضرت حوا علیہا السلام حضرت آدم علیہ السلام کے بھی جنت سے خروج کا سبب بنیں، قرآن حکیم اس باطل نظریہ پر رد کرتے ہوئے فرماتا ہے ”پھر شیطان نے انہیں اس جگہ سے ہلا دیا اور انہیں اس راحت کے مقام سے جہاں وہ تھے الگ کر دیا۔“
اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر کا استحقاق برابر قرار پایا ان دونوں میں سے جو کوئی بھی کوئی عمل کرے گا، اسے پوری اور برابر جزاءملے گی، ارشاد ربانی ہے: ”ان کے رب نے ان کی التجا کو قبول کر لیا (اور فرمایا) کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت تم سب ایک دوسرے میں سے ہی ہو۔“
عورت کو زندہ دفن میں گاڑے جانے سے خلاصی ملی یہ وہ بری رسم تھی جو احترام انسانیت کے منافی تھی۔ اسلام عورت کے لیے تربیت اور نفقہ کے حق کا ضامن بنا کہ اسے روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور علاج کی سہولت ”اولی الامر“ کی طرف سے ملے گی۔عورت کی تذلیل کرنے والے زمانہ جاہلیت کے قدیم نکاح جو درحقیقت زنا تھے، اسلام نے ان سب کو باطل کر کے عورت کو عزت بخشی۔ یہ وہ حقوق ہیںجو اسلام عورت کو دیتا ہے یہ احترام دنیا کے کسی مذہب میں نہیں ہے، عورت کے لیے اسلام کے احکامات ان تحفظ اور فلاح کے ضامن ہیں باقی سب کے لیے خسارہ ہے مغرب کا نظام زندگی اور عورت کے حقوق کے نام پر عورت کو باغی بنانا صرف اور صرف عورت کو خاندان کے پرسکون ماحول سے نکال کر بازار کی زینت بنانا ہے۔ مغرب کا سارا ذور اسی پر ہے میڈیا کی آزادی کے نام پر دن رات چلنے والے ٹی وی ڈرامے سوائے عورت کی بربادی کے کوئی اور راہ نہیں دکھا رہے اس سے بچنا ہی اس کی کامیابی ہے ورنہ طلاق اور خلع کے کیس بڑھتے چلیں جائیں گے اور خاندان ٹوٹے چلیں جائیں گے۔