“لاچاری سے اپنا تماشہ دیکھا”

Tang Safar
تنگ سفر
June 16, 2021
Gumshuda Mohabbat
گمشدہ محبت
June 30, 2021

“لاچاری سے اپنا تماشہ دیکھا”

آئس کریم دیتے ہوۓ عمر تو محترمہ بتاؤ پھر کیسے یقین دلواؤں کہ تم ہی سے محبت ہے۔
ہمم تو جناب کو واقعی میں محبت ہے۔ یقیناً مسکراتے ہوۓ بولا۔
جی جناب مان لیا آئس کریم اچھی ہے۔
عمر قہقہ لگاتے ہوۓ سٹوپڈ (stupid) یہ آئس کریم کہاں سے بیچ میں آ گئی؟
باتوں کو ہمیشہ گول کرکے میری محبت کو منزل تک کبھی نہ پہنچنے دینا بے وفا لڑکی۔دونوں بہت اچھے موڈ میں ہوتے ہیں۔چلیں دیر ہو رہی ہے مجھے “آمنہ” کے گھر ڈراپ(drop) کر دو امی کہیں اسے کال کر کے میرا ہی نہ پوچھ لیں۔
جو حکم ملکہ عمر شرارتاً گلاسز ہے پلے میں لگاتے ہوۓ بولا۔
شکریہ شکریہ عمر کی طرف دیکھتے ہوۓ بولی۔
چلو چڑیل تمہیں ڈراپ کرکے میں بھی فیکٹری کے لیے نکلتا ہوں۔
کیوں اس وقت سوالیہ نظروں سے پوچھا.
جی تھوڑا کام ہے۔رات کو آمنہ کی کال آتی ہے جو کہ عمر کو پسند کرتی ہے۔

او مجنو تو کیسے ہو تم؟ آمنہ طنزیہ بولی۔
کیا مسئلہ ہے یار تم بھی ہر وقت اپنی دوست کی طرفداری میں لگی رہتی ہو۔کبھی اسے سمجھا کر مجھے بھی سپورٹ کر لیا کرو۔
ضرور اور اسی لیے ہی میں نے کال کی ہے۔
بہت نوزش۔
by the way
کہاں ہو؟
میں فیکٹری تھوڑے کام الجھے ہوۓ ہیں۔

ادھر بابا ابراڈ ہیں سارا برڈن مجھ پر ہے۔
اس وقت رات کے 11 بج رہے ہیں ہاں بس لیپ ٹاپ بند کرتے ہوۓ بولا میں بھی نکل رہا ہوں ۔اچھا میں نے بہت ضروری بات کے لیے کال کی ۔یار میں بہت تھکا ہوا ہوں صبح ملتے ہیں نا یونی پھر بتانا۔اتراتے ہوۓ چلو ٹھیک ہے میں نے مہک کے حوالے سے بات کرنی تھی خیر ٹیک کیئر این باۓ ۔
رکو بولو پلیز۔وہ آ منہ کمرے سے باہر نکل کر ٹیکس پر آ گئ ۔وہ مہک تمہیں پسند کرتی ہے

پر
پر کیا وہ اضطراب میں بولا
پر تھوڑا تھوڑا
کیا مطلب؟
اگر تم یوں اس کے پیچھے بھاگو گے تو وہ گھمنڈی رہے گی۔ اسے پانا چاہتے ہو تو اسے سپیس(space) دو۔ تاکہ وہ تمہاری کمی محسوس کرے تمہارے بغیر ادھورا پن محسوس کرے۔ میں اس سے دور کیسے رہ سکتا ہوں بھلا
اسے پانا چاہتے ہو ؟
یہ بھی کوئی سوال ہے کیا
تو اسے اپنے ہونے کا اپنے وجود کا احساس دلواؤ اور یہ سب ایسے ممکن ہے جب تم اسے اپنی کمی محسوس کراؤ گے تو۔اس معاملے میں میں تمھارے ساتھ ہوں۔

تمھاری ہیلپ(Help) کروں گی.
تمھاری اہمیت کا احساس دلواؤں گی اسے۔
اس سے وہ کم از کم تمھاری باتوں کو گول نہیں کیا کرے گی۔ عمر نے لمبی سانس لیتے ہوۓ کرسی(chair) پر ٹیک لگا لیا۔
یار آمنہ مجھے اس کے پیچھے ذلیل و خوار ہونا ،اس کے نخرے برداشت کرنا سب پسند ہے، پر میں اس کی دوری برداشت نہیں کر سکتا۔ہاں تو کون کہہ رہا ہے کہ دور رہو۔ بس تھوڑا فاصلہ(space) ہی دینے کا کہا تاکہ وہ تمھارے دور ہونے سے تمھارے بارے میں سوچے اور کچھ نہیں۔

اگلے دن عمر یونیورسٹی میں ان ہی باتوں کو سوچتے ہوۓ “مہک” کو اگنور کرتا ہے وہ بھی زیادہ فیل نہیں کرتی۔
چند دنوں میں “فیکٹری کے حالات” بگڑنے کی وجہ “عمر” پریشانی اور کام کے دباؤ میں ایسا گھرا کہ سب سے آہستہ آہستہ رابطہ کم کرنے لگا تھوڑا “آمنہ” کی باتوں کا بھی اثر لے جاتا ہے۔اب “مہک” ہر روز پریشان اپنا موبائل بار بار اٹھا کر چیک کرنا پر “عمر” کوئی رابطہ نہیں کرتا ،یونیورسٹی بھی نہیں آتا۔

“آمنہ” کلاس کے بعد آؤ “مہک” کینٹین چلیں۔
ہاں یار یاد آیا “عمر” یونیورسٹی کیوں نہیں آتا؟ آمنہ نے انجان بنتے ہوۓ سوال کیا؟
“مہک” نے بات گھماتے ہوۓ مجھے کیا پتہ۔ میں نے سنا ہے وہ اپنی کزن کو پسند کرتا ہے اور بہت جلد شادی کرنے والا ہے۔

اس لیے اس نے ہم سے رابطہ چھوڑ دیا ہے۔
“مہک” چونکتے ہوۓ تمہیں کس نے کہا۔
علی بتا رہا تھا یار یہ لڑکوں کو ایک دوسرے کی (exact) باتیں پتہ ہوتی ہیں۔ ہم لڑکیاں ہی بھولی ہوتی ہیں۔ “مہک” کرسی سے اٹھتے ہوۓ میں نے گھر جانا ہے۔
اللہ حافظ کہتے ہوۓ نکل گئی۔
کئی دن “عمر” کے لیے پریشان ہونے کے بعد خیال کرتی ہے کیوں ناں دربار پر جاؤں منت مانوں سوچتے ہوۓ کیا پتا وہ بھٹک گیا ہو۔

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ کام میں بزی ہو۔ میں جانتی ہوں وہ مجھے سچا پیار کرتا ہے۔
عصر کے وقت دربار پر پہنچ جاتی ہے۔ بے شمار مانگنے والوں اور مانگوں کی قطاریں لگی ہوتی ہیں۔
اتنے میں “مہک” کے کانوں میں آواز آتی ہے۔
سنو
سنو اے لڑکی
“مہک” مڑ کر دیکھتی ہے سامنے ملنگ بابا کہتے ہوۓ باہر کو چلے جاتے ہیں ۔
وہ لوٹ آ ۓ گا غم نہ کر ۔اللہ ہو مانگ تو سچے دل سے وہ ضرور آۓ گا۔

دعا اور منت ماننے کے پیدل گھر جاتے ہوۓ جو کہ تھوڑے فاصلے پر ہوتا ہے۔
ملنگ بابا کی باتوں کو سوچ رہی ہوتی ہے۔ جو کہ سبز میلے کپڑے لمبے بال گلے میں بڑے بڑے موتیوں کے ہار پہنے، جو کہ دیوار کے ٹیک لگاۓ کھڑا تھا۔
گھر آکر مغرب کا وقت ہوجاتا ہے۔ نماز ادا کرنے کے بعد دعا کرتی ہے۔ “مہک” ایسی لڑکی ہوتی ہے جسے دعاؤں ،منتوں اور وضیفوں پر نہیں بلکہ قسمت پر یقین ہوتا تھا۔پر اب وہ خود کو دعاؤں اور منتوں کے آسرے چھوڑ دیتی ہے۔

اب بےچینی میں صبح و شام کال میسیجز کرتی ہے پر “عمر” کسی بھی بات کا جواب نہیں دیتا۔ گھر والے رشتہ دیکھ کر طے کر دیتے ہیں۔ “مہک” کو اتنا ہوش نہیں ہوتا کہ وہ رشتے سے انکار کر دے۔ اب روز دربار پر جا کر دعا کرنا ،نیاز بانٹنا اس کا معمول بن جاتا ہے۔
بزرگ ملنگ روز دیکھ کر ایک دن بلاتے ہیں۔اِدھر آؤ

جی بابا
غم نہ کر وہ آۓ گا۔
بابا اگلے مہینے میری شادی ہے۔
بابا اپنے ہاتھ سے ایک انگوٹھی اتار کر دیتے ہیں اور وظیفہ بتاتے ہیں ۔جس کہ 21 دن آدھی رات کو صحن میں کرنا ہوتا ہے۔
“مہک” لاڈلی لڑکی ہوتی ہے تنہائی اور اندھیرے سے بہت ڈرتی ہے لیکن عمر کے معاملے میں سب بھول گئی۔
روزانہ رات کو گھر والوں کے سو جانے کے بعد
روزانہ رات کو 100 تسبیع پڑھتی ہے۔یہ اتنا لمبا وظیفہ ہوتا ہے کہ جاۓ نماز پر بیٹھے بیٹھے گرنے لگتی۔ پر کبھی ہمت نہ ہاری روز وظیفہ ختم ہونے تک صبح کی آذان کا وقت ہو جاتا۔

وہ نماز پڑھ کر تھوڑا سوتی۔ آج تم گھر پر ہی ہو ناں جی ماں آج تو اتوار ہے پر کیوں ماں؟
سوالیہ نظروں سے مہک نے پوچھا؟
تمہاری پھپھو وغیرہ بات پکی کرنے اور تاریخ لینے آرہے ہیں۔ ماں تھوڑا وقت دیں مجھے۔کیوں آرام سے رہو تم جانتی ہو “احمر” کینیڈا رہتا ہے۔

ویل سیٹلڈ (well standard) ہیں ہم نے ایک سیکنڈ بھی سوچنے کے لیے مانگا تو خاندان والے تیار بیٹھے ہیں. ان سے رشتہ کرنے لیے اور ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔
کہتے ہوۓ “ساجدہ بیگم” کمرے سے باہر نکل جاتی ہیں۔
اب “مہک” کے پاس واقعی میں کم وقت ہوتا ہے.فورًا سے اُٹھ کر “عمر” کو کال ملاتی ہے۔نہ اٹھانے پر وائس نوٹ میں اپنی اور گھر کی ساری بات بتاتی ہے کہ آج تاریخ رکھیں گے پر وہ مسیج رسیو کرنے کے بعد بھی کوئی جواب نہیں دیتا کیونکہ “آمنہ” اسے تسلی دیتی رہتی ہے کہ سب جھوٹ ہے۔ تمہیں ڈرا رہی ہے پر “عمر” کا دل بھی بے چین ہوتا ہے کہ جیسا کچھ برا ہونے والا ہو۔ مسلسل 3 ماہ رابطہ نہ کرنے پر اور رشتہ بنانے پر بھی عمر کا کوئی مثبت رسپانس (Response) نہ آنے پر “مہک” ٹوٹ سی جاتی ہے۔

اب شادی کی تاریخ پکی ہو جاتی ہے۔ “عمر” بار بار “آمنہ” سے پوچھتا ہے پر وہ کہتی ہے کہ سب ٹھیک ہے ۔عمر اپنے والدین سے مہک کے رشتے کی بات کرتا ہے وہ مان جاتے ہیں۔

“عمر” اب خوش ہوتا ہے کہ گھر والے مان گئے ہیں ۔”مہک” کا بھیجا گیا ایک ایک میسج پڑھ کر بہت خوش ہوتا ہے کہ یہ تو چھپی رستم مجھ سے بھی زیادہ پیار کرنے والی نکلی چلو اچھا ہوا آمنہ کا مشورہ میرے کام آیا مہک تو میرے لیے بے تاب ہوئی۔عمر والدین کے ساتھ مہک کے گھر پہنچ کر جو دیکھتا ہے اس کے پاؤں تلے زمین نکل جاتی ہے۔ مہک کو دلہن بنے دیکھ کر خود کلامی میں بڑبڑانے لگتا ہے۔

وہ سچی تھی
وہ سچی تھی
مجھے روز بلاتی رہی
مجھے منتیں کرتی رہی
پر میں نے ایک نہ مانی
عمر خود کو سنبھالو میرے بچے۔ ماں ماں وہ لڑکی جو دلہن بنے بیٹھی ہے وہی مہک ہے اسٹیج کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ بتایا۔صبر کرو میرے لال بے وفا لڑکی نے بتایا نہیں کہ شادی کروا رہی ہے محترمہ آگ بگولہ ہوتے ہوۓ بولی۔

ماں اسے کچھ نہ کہیں وہ بے قصور ہے۔ مجھے روز بتاتی رہی میں نے جھوٹ سمجھ کر کبھی رسپانس ہی نہیں کیا۔
اتنے میں آمنہ جو مہک کے ساتھ بیٹھی دل میں اپنی کامیابی پر خوش تھی کہ اس کی نظر “عمر” پر پڑی
پر مہک کے دل میں بار بار ملنگ بابا کی آ وازیں سنائی دیں آنکھوں سے آ نسو ٹپک رہے ہوتے ہیں سوچتی ہے ۔اب وہ کیوں آۓ گا

اور
اب اس کے آنے کا کیا فائدہ
اتنے میں کانو میں آمنہ کی آواز آتی ہے
عمر
مہک چونک کر کیا؟
وہ دیکھو عمر فیملی کے ساتھ آیا ہے۔
مہک دیکھتے ہی بے ساختہ اسٹیج پر کھڑی ہو جاتی ہے۔
عمر تیز قدموں کے ساتھ آتا ہے یہ تم نے کیا کیا آمنہ۔
دن میں کتنے بار پوچھتا تھا تم کہتی رہی سب ٹھیک ہے۔آمنہ شرمندہ ہوتے ہوۓ نظریں جھکا گئی۔

مہک بدلے ہوۓ لہجے کے ساتھ عمر سے مخاطب ہوئی۔
مجھ سے بات کرو عمر
آمنہ پر یقین تھا مجھ پر نہیں
مہک کا جواب دئے بغیر میں اپنے پیرینٹس کے ساتھ تمہارا ہاتھ مانگنے آیا تھا۔
یہ سب تم نے کیوں ہونے دیا میں تمہارے بغیر کیسے رہوں گا۔
ویسے جیسے تین ماہ رہے۔ میں شرمندہ ہوں پر آمنہ سے ہر سیکنڈ تمھارا پوچھتا رہا بتاؤ ناں آمنہ چپ کیوں ہو؟
عمر نے بازو سے جھنجھوڑتے ہوۓ کہا۔آمنہ کی خاموشی بتا گئی کہ سارا کھیل اسی کا رچایا ہوا ہے۔ مہک میں شرمندہ ہوں پلیز تم انکار کر دو۔ میرا سوچو میرا کیا بنے گا۔

مہک کے کانوں میں پھر سے وہی آوازیں گونجنے لگتی ہیں وہ آۓ گا وہ ضرور آۓ گا۔
وہ آیا تو ہے پر صحیح وقت پر نہیں۔
دعائیں جو اس کے آنے کی مہک نے کیں وہ پوری تو ہوئیں پر ساتھ نہ مل سکا۔
اسی لمحے بارات روانہ ہوگئی عمر لاچارگی سے اپنا تماشا جیسے دیکھتے ہوۓ مر سا گیا۔پر وہ شکوہ بھی تو نہیں کر سکتا تھا کیونکہ اس نے تیرے بندے پر یقین تو رکھا پر حقیقت سے منہ موڑا۔