کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی اور عالمی برادری

نقاش پاکستان چوہدری رحمت علی عارف
November 16, 2020
ہم کدھر جا رہے ہیں
December 9, 2020

کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی اور عالمی برادری


کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تاریخ اُس دن سے شروع ہوتی ہے جب بھارت نے اپنی فوجیں سرینگر میں اتاریں۔ اِس فوج نے ایک جانب کشمیری مجاہدین کا مقابلہ کرتے ہوئے انہیں واپس دریائے جہلم کے پار تک دھکیل دیا اور دوسری جانب مقامی آبادی پر مظالم کے پہاڑ توڑ ڈالے۔ اس دوران مہاراجہ ہری سنگھ جب جموں گیا تو وہاں مسلمانوں کا ایک وفد اُس کے پاس یہ شکایت لے کر گیا کہ مقامی سکھ اور ہندو آبادی، مسلمانوں پر مظالم ڈھا رہی ہے تو مہاراجہ نے شکایت دور کرنے کی بجائے وفد کو ہی قتل کرنے کے احکامات جاری کردیے۔ اس کے ساتھ ساتھ مہاراجہ نے مسلم آبادیوں پر حملے کرنے کا بھی حکم دیا۔ اس حکم کے اجراء سے قبل کشمیر سے متصل بھارت کی سکھ ریاستوں سے سکھ دستوں کو بڑی تعداد میں کشمیر میں بلالیا گیا تھا جنہوں نے خاص طور پر جموں کی مسلم آبادی کا بڑی بے دردی کے ساتھ قتِل عام کیا۔ 1947ء کے دوران کشمیریوں کی الحاق پاکستان کی جدوجہد کے دوران پورے کشمیر میں پانچ لاکھ سے زائد افراد کو شہید کیا گیا۔
اس وقت کشمیر میں مجموعی طور پر ساڑھے سات لاکھ بھارتی فوج تعینات ہے جو انسانی حقوق کی زبردست پامالیوں میں ملوث ہے۔ آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ 1958ء کے تحت سیکورٹی فورسز کو مکمل اختیارحاصل ہے کہ وہ مظاہرین کو کچلنے اور تحریک آزادی کو دبانے کیلئے ہر وسیلہ اور اقدام بروئے کار لاسکتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے خواہ وہ انسانی حقوق کی جس قدر بڑے پیمانے پر بھی خلاف ورزی کریں، اُن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ یہ ایکٹ مقبوضہ کشمیر میں 1990ء میں نافذ کیا گیاجب کشمیریوں کی مسلح تحریک عروج پر پہنچ چکی تھی اور مرکزی سرکار کے پاس انہیں کچلنے کیلئے کوئی حربہ نہ تھا۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں، اقوام متحدہ وغیرہ نے اس ایکٹ کے نفاذ پر زبردست تنقید کی تھی کیونکہ یہ ایکٹ براہ راست فوجی افسران کو یہ اختیار فراہم کرتا تھا کہ وہ اپنے مشن کی کامیابی اور مرکزی سرکاری کے احکامات پر عمل درآمد کیلئے ہر قسم کے حربے اختیار کرسکتے ہیں اور اس ضمن میں انہیں ہر قسم کی قانونی کارروائی سے تحفظ فراہم کیا گیا تھا۔ اس قانون کا سب سے خطرناک استعمال 23فروری 1991ء کو کیا گیا جب کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے دو دگاؤں کنن اور پوش پورہ میں ایک رات سرچ آپریشن کے دوران فوج نے سو سے زائد خواتین کو زیادتی کانشانہ بنایاجو مختلف عمر کی تھیں۔ ہیومن رائٹس واچ اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں کے مطابق یہ تعداد 150کے لگ بھگ تھی۔ ان تنظیموں کے دباؤ پردہلی سرکار نے اس واقعہ کی اگرچہ تفتیش کی لیکن بعد میں اِسے بے بنیاد قراردے کر واقعہ میں ملوث فوجیوں کو بے گناہ قرار دے دیا۔
درحقیقت پچھلے تہتر برس سے مقبوضہ کشمیر کے اندر بھارتی فوج انسانی حقوق کی زبردست خلاف ورزیوں میں ملوث ہے اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کے ان واقعات کو رپورٹ بھی کیا ہے لیکن اس کے باوجود بھارت نے ہمیشہ ڈھٹائی اختیار کیے رکھی رہی ہے۔ ہر واقعہ کے بعد اُس کا جواب یہی ہوتا رہاہے کہ یہ محض من گھڑت قصہ یا پراپیگنڈہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسا موقف اختیار کرتے ہوئے بھارت انسانی حقوق کے علم بردار عالمی اداروں جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ وغیرہ کو مقبوضہ کشمیر میں جانے اور وہاں کے حالات کا بغور مشاہدہ کرنے کی اجازت بھی نہیں دیتا۔ پچھلے برس سے لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر بھارتی فوج بلااشتعال فائرنگ سے آزادکشمیر اور پاکستان میں درجنوں معصوم اور بے گناہ شہریوں کوشہید کرچکی ہے۔ ان واقعات کی عالمی سطح پر تشہیر ہوئی ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اگرچہ پاکستان کے راستے متعلقہ مقامات کے دورے کیے لیکن بھارت کی جانب سے انہیں سرحد پر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ بھارت کا یہ رویہ صاف ظاہر کردیتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم وجبر کا زبردست بازار گرم ہے اور بھارت واقعات کی پردہ پوشی کیلئے کسی مبصر کو کشمیر میں جانے کی اجازت نہیں دیتا تاکہ کہیں اُس کا پول نہ کھل جائے لیکن اس کے باوجود کشمیری نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعے خود پر اور اپنی قوم پر بیتے حالات و واقعات سے عالمی دنیا کو آگاہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے ہی بھارت کا انتہائی تاریک اور بدنما چہرہ کشمیر کے مرغزاروں اور کوہساروں میں اپنی پوری بدہئیتی کے ساتھ دکھائی دیتاہے۔
اگرچہ پانچ اگست 2019سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور لاک ڈاؤن کی آڑ میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی جاری ہے۔ انسانوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدترسلوک روارکھا جارہاہے لیکن اس کایہ مطلب نہیں کہ کشمیری صرف اب کرفیو اور لاک ڈاؤن کے خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ان کا مطالبہ اس سے بھی آگے کا ہے اور وہ ہے بھارت سے مکمل آزادی۔ کرفیو، لاک ڈاؤن، ظلم وجبر اور تشدد جیسے حربے وہ ہمیشہ سے سہتے چلے آئے ہیں۔ ایسے اقدامات انہیں خوفزدہ کرتے ہوئے اپنے مطالبے اور مشن سے دست بردار ہونے پر مجبور نہیں کرسکتے۔ ایسا ہوتا تو بھارت کو کشمیر میں کرفیو نافذ کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔
معاملہ صرف یہ نہیں کہ بھارت اس نوعیت کے پرکشش لالچ کے ذریعے کشمیریوں کو مختلف ترغیبات دینے کی کوشش کرتا رہاہے۔ اولین کوشش کے طور پر تو بھارت نے کشمیریوں پر مظالم کی نت نئی داستانیں رقم کرتے ہوئے انہیں زبردستی اپنے مقصد سے ہٹانے اور اپنے رنگ میں رنگ دینے کی کوشش کی تھی۔ اکتوبر1947ء میں بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو ایک ٹیلی گرام ارسال کرتے ہوئے برملا اس امر کا اعلان کیا تھا کہ کشمیر کے مسئلے کو،کشمیری عوام کی امنگوں اور خواہشوں کے مطابق حل کیا جائے گااور اس ضمن میں کوئی دوسری رائے نہیں ہونی چاہیے۔ بعد میں جب بھارت اس مسئلے کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر لے کر گیا، تب بھی بھارت نے اس کااعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے یہ وعدہ کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں اور خواہشوں کے مطابق حل کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کرے گا۔ لیکن بھارت کا یہ وعدہ کبھی ایفا نہیں ہوا۔ اب اُس نے ایک جانب کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا ہے اور دوسری جانب کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ کرفیو، لاک ڈاؤن کے نفاذ سے زندگیاں بے حد مشکلات اور مصائب کا شکار ہوکر رہ گئی ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی اپنے عروج پر ہے اور عالمی برادری کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ان پامالیوں کا فوری نوٹس لے اور بھارت کو مجبور کرے کہ وہ کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق حق خودارادیت دے۔ ٭٭٭