محبت یہ زندگی تیرے نام

آج آٹھ سال گزر جانے کے بعد بھی اپنی محبت میں گرفتار تھی
January 27, 2021
جب اُمیدیں ٹوٹ جائیں اور اپنی کہانی ویسے ہی…..ادھوری کہانی
February 2, 2021

محبت یہ زندگی تیرے نام

از قلم، راحیلہ بنت مہر علی شاہ
(گزشتہ سے پیوستہ)
”ہی۔۔لو۔۔ اس نے ڈر خوف اور آنسو¶ں سے بھیگی آواز میں کہا تو دوسری جانب مامون کے دل کو بےساختہ کچھ ہوا تھا کسی بھی انہونی نے اسے بری طرح ڈرا دیا تھا اور دوسرے ہی لمحے اس نے کال ڈراپ کرلی کال بند ہوتے ہی مارشا کی منہ سے بےساختہ سسکی نکلی_
”کیا ہوا مامون؟ ”
”یار مجھے لگتا ہے کچھ غلط ہونے والا ہے پلیز تم امی کا دھیان رکھنا میں اس کے پاس جاتا ہوں اسے کچھ ہوا تو ساری زندگی خود کو معاف نہیں کرپا¶ں گا” مامون نے کہا تو احمد نے اس کا شانہ تھپتھپایا” تم بےفکر ہوکر جا¶ آنٹی کی فکر مت کرو میں ہوں یہاں تم جا¶ جلدی”
احمد نے کہا تو مامون بھاگتے ہوئے وارڈ سے نکل آیا اس کا دماغ اتنا ما¶ف ہو رہا تھا کہ گاڑی کا دھیان ہی نہ رہا اور پیدل ہی بھاگ پڑا_
رکشہ رک گیا سڑک بلکل ویران اور سنسان تھی کوئی گاڑی زن سے گزری چند لمحے فضا میں ارتعاش پیدا ہوا پھر گہری مہیب خاموشی چھا گئی رکشہ روک کر وہ آدمی رکشے سے نیچھے اتر آیا مارشا کا دل کانوں میں دھڑکنے لگا ایک لمحہ ضائع کیے بنا رکشے سے کودی اور اپنی تمام تر قوت مجتمع کرکے بےجان ہوتے پا¶ں سے بھاگ پڑی بھاگتے بھاگتے جانے کتنی دور نکل آئی تھی کہ اچانک ٹھوکر لگی موبائل ہاتھ سے چھوٹ کر سڑک پر گرا اور تین ٹکڑوں میں بٹ گیا وہ منہ کے بل گری اور دوسرے ہی لمحے اس کا دماغ تاریکیوں کا اماوجگا بن گیا_
مامون بار بار اس کا نمبر ڈائل کر رہا تھا لیکن دوسری جانب نمبر بند آرہا تھا اس کا دم گھٹنے لگا ہزاروں وسوسوں اور خدشوں کے بیچ بری طرح پس رہا تھا پاگلوں کی طرح سڑکوں کی خاک چھان رہا تھا کل ماں کا آپریشن تھا لیکن اسے تو کوئی اور ہی روگ چمٹ گیا تھا ایک لڑکی ایک ایسی لڑکی جس کے ساتھ چند منٹ کال پہ بات ہوئی تھی جو اس کے لیے بلکل اجنبی تھی لیکن اس کے لیے جان دا¶ پر لگا کر اتنی رات کو گھر سے نکلی تھی اب کہاں تھی کس حال میں تھی کچھ معلوم نہیں تھا وہ اس کے لیے سڑکیں چھان رہا تھا در بدر پھر رہا تھا لیکن وہ نہیں مل رہی تھی بہت کوشش کی لیکن بےسود..! کئی گھنٹے تلاش بسیار کے بعد وہ بکھرا بکھرا شکستہ قدموں سے واپس ہاسپٹل جا رہا تھا ایسے کہ اس کا دم گھٹ رہا تھا دل درد کے شدت سے پھٹنے کو تھا
”کہاں ہو؟ ایسا کیوں کیا آپ نے؟ اتنی بڑی سزا کیوں دی مجھے؟ خود سے باتیں کرتے کرتے اچانک پھوٹ پھوٹ کر رو دیا لمبا چوڑا مرد رو رہا تھا
مم میں مرجا¶ں گا یہ کیا سزا دی کیوں؟۔۔پتہ نہیں کیا ہوا ہوگا آپ کے ساتھ؟ ”
ویران سڑک پر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اپنا سر ہتھیلیوں میں گرائے وہ روتے ہوئے التجا کر رہا تھا _
”یہ بیج سڑک پر کون بیٹھا ہے اتنی رات کو بیوی نے ڈرایﺅنگ کرتے شوہر سے پوچھا شوہر نے جواباً گاڑی روک دی لگتا ہے آج کی رات اللہ تعالیٰ ہم سے کوئی اور کام لینے والا ہے شاید کوئی امتحان… تم دعا کرو…!
اللہ ہمیں معاف فرما دے”
شوہر نے گاڑی سے اترتے ہوئے جواب دیا اور اس لڑکے کے پاس جاکر بیٹھ گیا ”ہیلو بھائی”
اس نے ہلکے سے مامون کا شانہ تھپتھپا کر کہا تو مامون نے ایک جھٹکے سے سر اٹھا دیا گریہ زاری سے سرخ آنکھیں ابھی بھی آنسو¶ں سے بھری پڑی تھیں عامر صاحب کے دل کو کچھ ہوا نرمی سے اسے اٹھاکر گاڑی تک لائے رانیہ پیچھے بیٹھ گئی جبکہ مامون فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا عامر نے ڈرایﺅنگ سیٹ سنبھالی
”کیا آپ اپنی پریشانی ہم سے شئیر کرنا پسند کریں گے؟ ” عامر نے مردانہ وجاہت کے شاہکار کو ایک نظر دیکھتے ہوئے نرمی سے استفسار کیا وہ دونوں خود بہت پریشان تھے لیکن فی الحال اپنی پریشانی بھول کر اس نوجوان کی پریشانی دکھ دے رہی تھی
جواباً مامون نے پورا واقعہ کہہ سنایا تو عامر نے بےاختیار بریک لگایا مامون نے چونک کر انہیں دیکھا چند لمحے مہیب سناٹے کے نظر ہوئے اور پھر عامر صاحب نے دوبارہ گاڑی سٹارٹ کردی ان کے لب سختی سے باہم پیوست تھے مامون کسی حد تک الجھ چکا تھا گاڑی سٹی ہسپتال پہنچ چکی تھی وہ دونوں میاں بیوی کے ساتھ میکانکی انداز سے چل رہا تھا عامر صاحب نے کسی سے فون پر بات کی اور پھر چلتے چلتے ایک وارڈ کے سامنے پہنچ کر رک گئے ایک نظر مامون کے سفید پڑتے چہرے کو دیکھا اور دروازہ کھول کر اندر چلے گئے مامون بےجان ہوتے وجود کو بمشکل گھسیٹتے اندر چلا آیا سامنے بستر پر سانولی سی لڑکی لیٹی ہوئی تھی اس کے ماتھے پر پٹیاں بندھی ہوئی تھی آنکھیں بند تھی لیکن آنکھوں سے آنسو¶ں کی لکیری بہہ کر اس کے چہرے پر نقش و نگار چھوڑ گئے تھے مامون تڑپ اٹھا ساری بات آن واحد میں سمجھ آئی اور بےقراری سے آگے بڑھا
”یہ یہ کک کیا ہوا کیسے ہوا؟”
وہ جس بےقراری اور تڑپ سے گویا ہوا عامر صاحب نے سختی سے اپنی آنکھیں میچ لیے رانیہ کی آنکھوں سے آنسو¶ں کا ایک سیلاب بہہ رہا تھا مارشا کے پاس بیٹھ کر اس کے ہاتھ کو وارفتگی سے چومنے لگی کتنی حساس تھی ان کی بیٹی…!کیسے کیسی اجنبی کے لیے خود کو دا¶ پر لگا گئی تھی…!
”مجھے کچھ دیر پہلے دوست نے کال کر کہ کہا کہ مارشا کو زخمی حالت میں کوئی ہسپتال چھوڑ کر گئے ہیں….” عامر صاحب نے کہا تو مامون کے خون کا اک اک قطرہ نچڑ گیا کیا ہوا ہوگا یہ سوچتے ہی اس کی سانسیں بھی اس کو تکلیف دینے لگیں
”وہ کوئی بزرگ جوڑا تھا جنہوں نے مارشا کو زمین پر گرتے دیکھا تھا اور بروقت اسے ہاسپٹل لےکر آئے”
عامر صاحب مزید بولے تو مامون کے اندر پھیلتے وحشت میں تھوڑا کمی واقع ہوئی
”فکر کی کوئی بات نہیں مارشا دوا¶ں کے زیر اثر ہے جلدی ہوش میں آجائے گی ان شائالل? کچھ نہیں ہوگا ہماری مرشی کو”
عامر صاحب نے محبت سے اپنی بیٹی کو دیکھتے ہوئے کہا اور مامون تو ”مرشی” نام میں ہی اٹک گیا
کتنا خوبصورت لگا اس کو یہ نام….
زندگی کے رعنائیوں بھرپور
”امی..! ابو…!اچانک مارشاج ہوش میں آئی اور امی ابو کو دیکھ کر پکارا وہ دونوں جلدی سے اس کے پاس آئے اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ پوچھتے مامون بےقراری سے آگے بڑھا
”کہاں تھی آپ۔۔۔آپ تو پیسے لےکر آرہی تھی نا..! میں آیا آپ کو لینے آپ کہاں چلی گئی تھیں؟ ایسا کیوں آپ نے؟ مامون بےقراری سے پوچھ رہا تھا وہ چونکی اس نے حیرت سے سامنے کھڑے وجہیہ لڑکے کو دیکھا پھر امی ابو کی طرف
اور اچانک جیسے سب کچھ یاد آیا واقعہ یاد آتے ہی وہ خاموش ہوئی کچھ دیر تک اپنے آپ کو سنبھالتی رہے بولنے کے قابل ہی نہ رہی اس کا دل بےہنگم انداز سے دھڑکنے لگا کچھ دیر کے بعد پھر گویا ہوئی
”جس رکشے میں آرہی تھی وہ بہت غلط آدمی تھا اس نے بیچ راستے میں رکشہ روک دیا تھا میں رکشے سے اتر کر بھاگی اور بھاگتے بھاگتے۔مجھے ٹھوکر لگی میں گرگئی تھی………..!اس کے بعد کچھ یاد نہیں کیونکہ گرنے کے بعد مجھے ہوش نہیں رہا
وہی دھیمی خوبصورت لیکن نقاہت زدہ آواز میں اس نے بتایا ایک کے بعد دوسری نگاہ مامون کی جانب اٹھی لیکن جلد ہی پلکوں کی بھاڑ گرادی تھی
دو اجنبی جنہوں نے بس ایک دن بات کی تھی صرف کچھ ساعت کے لیے اور اب اس دنیا سے جنت تک ساتھ کے خواں تھے دونوں نے دل ہی دل میں ایک دوسرے کو ایک بلند مقام دے دیا تھا اور جب مامون کی امی اور مارشا مکمل طور پر صحت یاب ہوئیں تو مارشا کا رشتہ مانگ لیا اور مارشا کے گھر والوں نے چھان بین کے بعد ہاں کرلی تھی انہیں پتہ تھا کہ مامون سے بہتر انسان شاید ہی اس کی بیٹی کو ملے اور ایک ماہ بعد ہی مارشا خوشی سے ڈھیروں خواب پلکوں پہ سجائے مامون کے سنگ پیا دیس سدھار گئیں _