ماہانہ مشاعرہ بزمِ چغتائی

نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں
November 4, 2020
جگنو انٹر نیشنل کی چھٹی سالگرہ
November 4, 2020

ماہانہ مشاعرہ بزمِ چغتائی

شہزاد احمد شےخ
بزمِ چغتائی عرصہءدراز سے لاہور مےں ادبی سرگرمےوں کے لئے کوشاں ہے۔ لاہور شہر کا شائد ہی کوئی ایسا شاعر ہو گا جس نے اس بزم مےں سخنوری نہ کی ہو ، بزمِ چغتائی مےں صرف لاہور ہی نہےں پورے پاکستان بلکہ مےں اگر ےہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ بےرونِ ممالک سے بھی شاعر اس مےں حصہ لےتے رہے ہےں۔ آج کے مشاعرے مےں بھی سعودی عرب سے انجےنئر سلےم کاوش بھی تشرےف لائے ہوئے تھے۔ اس بزم کے مشاعرے مےںشعر ا ءخوشی خوشی شامل ہوکر دادِ تحسےن حاصل کرتے ہےں اور ادبی زوق رکھتے ہوئے دوسرے شعراءکو داد دےنے مےں ذرا سی بھی کنجوسی نہےں کرتے۔
ےکم دسمبر کو ہونے والے ماہانہ مشاعرے کی کرسیء صدارت پر حلقہ ارتقائے اد ب لاہور کے روحِ رواں معروف شاعر جناب رےاض رومانی صاحب جلوہ افروز تھے جبکہ مہمانِ خصوصی عدل منہاس لہوری،سلےم کاوش، پروفےسرفرخ محمود، گلزار حسےن گلزار اور اےم۔آر مرزا تھے۔
مشاعرے کی نظامت کے فرائض خواجہ عاصم صاحب کے زمے تھے۔ اور انہوں نے بھی کےا خوب نظامت کی شروع سے لے کر آخر تک مشاعرے کو گرمائے رکھا۔قارئےن کی دلچسپی کے لئے تمام شعرائے کرام کا کلام پےش کے جاتا ہے۔
خواجہ عاصم
وہ تو مےں نے صبح کا منظر اتارا کھےنچ کر
آئےنہ سچ بولنے سے باز آتا ہی نہ تھا
مےں نے اِک پتھر اُٹھاےا اور مارا کھےنچ کر
عدل منہاس لہوری۔
تےرے باہج اے راج ہنےرےاں داں
خوشےاں گھڑی دی گھڑی وی آندےاں نئےں
دل ےار نوں عدل ےقےن ہوےا
جےوندےاں ساہنوں ےار ملاندےاں نئےں
پروفےسر فرخ محمود۔
قدرت زبان تو ہر کسی کو دےتی ہے
لےکن زبان پر قدرت کسی کسی کو دےتی ہے
٭٭
ناکام لوگوں کے پےچھے پڑنے والے لوگ
کامےاب لوگوں کے آگے پےچھے رہتے ہےں
انجےنئےر سلےم کاوش
گھر مےں سارے لوگ اکےلے رہتے ہےں
سب نے اپنی اپنی ہے اپنالی سوچ
کاش کسی کو پڑھنا آجائے کاوش
بھےگی آنکھےں خالی ہاتھ سوالی سوچ
گلزار حسےن گلزار
اُسی کی بات پہ اےمان ہم پہ لازم ہے
وہ بات ےہ کہ اکےلا کرے خدا خود کو
تری ذرا سی بھی لغزش پہ سب کو حےرت ہو
بنا نہ اتنا بھی گلزار پارسا خود کو
اےم۔آر مرزا
پورے شہر چہ ات مچائی
رانی خاں دے سالے وےکھو
کہندے سی جو نال مراں گے
چھڈ گئے ادھ وچالے وےکھو
پروفےسر حسن عسکری
فرےب خود کو نہ دوں گا کبھی بنامِ وفا
خےال و خواب کے پردے ہی اب اُٹھا دوںگا
کروں گا نذرِ حوادث مےں زندگی کو حسن
مےں کےا ہوں کون ہوں دنےا کو ےہ بتا دوں گا
ڈاکٹر رفےق احمد خان
ستاروں کا جہاں مےرا جہان ہے
مری پرواز مثلِ کہکشاں ہے
ےہ کےسا نور پھےلا ہے فِضا مےں
جنوں مےرا امےرِ کارواں ہے
پروفےسر عبّاس مرزا
اک عجب ڈھارس بندھاتا ہے سرِ شامِ فراق
واہ دنےا بھر کے ناموں سے جدا ہے تےرا نام
نام والے تےرے جےسا اور نامی ہے کہاں
چاروں جانب گونجتا اکثر سنا ہے تےرا نام
ممتاز راشد لاہوری
جنے وےکھنے نے رّب دے نظارے
او سےنے وچ جھاتی پا لووے
٭٭
جدوں ملدے نےں ےار پرانے
تے ےاداں والی گنڈ کھل گئی
نسےم افضل
غےروں سے ملو گے تو ہمےں ےاد کرو گے
پردےس مےں ےاد آتا ہے گھر سب سے زےادہ
شہروں ہی مےںتو ہوتا ہے تنہائی کااحساس
شہروں مےں ہی تو ہوتے ہےں گھر سب سے زےادہ
شہزاد احمد شےخ
اُن گھروں پہ ہو کرم مولا، جہاں
بےٹےوں کے بَر ابھی آئے نہےں
دستکےں شہزاد دےتے جائےے
کھلنے والے در ابھی آئے نہےں
فہےم احمد مےو
اےک مورت کو تراشو جو ہو سب سے ےکتا
وقت کے تےشہ ورو شےشہ گرو کچھ تو کرو
تشنہ کاموں کی بڑھی تلخ مزاجی کےوں کر
ساقےو مفت برو جام بھرو کچھ تو کرو
ضےاءحسےن
جو بھی غےروں کے در پہ لے جائے
مےں تو اس بے بسی سے ڈرتا ہوں
خےر و شر ہوں جہاں ضےاءمدغم
اےسی تےرہ شبی سے ڈرتا ہوں
مسعود خان اِرحم
برفاں ورگے ہنےرے نوں پگھلاون لئی
سورج دا پربند کرےں تے وےکھاں گے
ہوش منداں دی بےہنی بےہہ کے اِرحم جی
کار وِہار بلند کرےں تے وےکھاں گے
صدےق جوہر
ہر اک چمکن والی شے نہئےں سونا ہےرا ہوندی
اےوےں ڈِگ ڈِگ پےناں اےں چناں ہوراں ہوراں اُتے
گجن والےا تےرے کول ورن دی طاقت نئےں
ہن نئےں کوئی کن دھرے گا تےرےاں شوراں اُتے
افضل ساجد
امےرِ شہر کے اک حکم سے ہوئے مسمار
جہاں جہاں تھے غرےبوں نے گھر بنائے ہوئے
وفا شعار تھا ساجد سے لب کشا نہ ہوئے
اگرچہ دےر ہوئی دل پہ چوٹ کھائے ہوئے
سہےل ثانی
مےری بنتا ہے بےساکھی مےرا وہ مہرباں لےکن
مجھے مےرے سہارے پر کھڑا ہونے نہےں دےتا
جہاں فرعون رہتے ہےں وہےں موجود ہوتا ہے
کوئی موسیٰ جو بندے کو خدا ہونے نہےں دےتا
اےم وائی شاہد
بے خبرے نے لوکی حالی تےکر وی
سمجھے نئےں سرکار کہانی اندر دی
شاہد سجناں ساہتوں اکھ برلائی تے
ہو گئی تار و تار کہانی اندر دی
بخشی نسےم
ہوندے ہلکے بھارے بندے
ہوندےاں ہلکےاں بھارےاں اکھاں
بخشی وےکھ کے رہ جاندا اے
کجرے نال سنگھارےاں اکھاں