مہرالنساء کا گھر
April 28, 2021
ماسی کا کیا مطلب ہوتا ہے؟
May 4, 2021

رنگوں کے رنگ

کمرے میں گرما گرم بحث جاری تھی۔ ساتوں حضرات اپنے اپنے نقطہ ء نظر پہ قائم تھے اور ان کے درمیان اختلاف کا گہرا اور وسیع سمندر حائل تھا۔ وہ سات بر اعظموں کی طرح ایک دوسرے سے فاصلہ برقرار رکھنے پر ہی مصر تھے تاکہ ان کی اپنی اپنی شناخت اور اپنی اپنی وجہ تفاخر قائم رہے۔ اختلاف صرف رنگوں کی پسند اور نا پسند پر تھا۔ سرخ، سبز، نیلا، پیلا، نارنجی، جامنی اور بنفشی۔ 

ہر ایک فرد اپنی پسند کے رنگ کی وکالت کرتا تھا اور اپنی پسند کو دوسروں پر مسلط کرنے پر تلا ہوا تھا۔ہر کسی کی یہی کوشش تھی کہ باقی سبھی لوگ اس کی پسند کو پسند کریں۔ بحث میں سب سے آگے اور سب سے پر جوش سرخ، سبزاور پیلے والے تھے۔ نارنجی والا بھی بعض اوقات زیادہ ہی بھڑک جاتا مگر پھر سرخ اور پیلا اسے بحث کے رن میں پیچھے دھکیل دیتے۔نیلے، جامنی اور بنفشی والے قدرے دھیمے تھے مگر ہر گز پیچھے نہ تھے۔

” بھئی سرخ رنگ تو زندگی کی علامت ہے۔ زندگی میں حرارت کی ترجمانی ہے۔ یہ نہ ہو تو زندگی کا ہر رنگ پھیکا ہے۔ ہر آہنگ بے مزہ اور بے توقیر ہے ” سرخ والے نے اپنے دلائل کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔

گفتگو کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں بھی سرخ رنگ نظر آتا تھا۔ پھر اس کی گفتگو اس کے حلق میں ہی ڈوبنے لگی۔ اس کی آواز اس کے تصور میں سے ہو کر آتی تھی جہاں کوئی حسینہ سرخ کپڑوں میں ملبوس اپنے سرخ سرخ ہونٹوں سے سرخ والے سے مخاطب تھی۔اس پری پیکر کے گالوں پر بھی سرخی دکھائی دیتی تھی۔ پھر سرخ والے نے اپنے تصور میں موجود اس حسن و جمال کا بھی ذکر کیا۔

کمرے میں ایک قہقہ اٹھا۔ سرخ والا کچھ خجالت محسوس کرتے ہوئے پیچھے ہٹا ہی تھا کہ زرد والے نے اپنی پسند کے اوصاف گنوانے شروع کیے۔ اس کے زرد چہرے پر بھی کچھ جوش کی سرخی آئی مگر وہ کسی بھی صورت میں سرخ رنگ کو پسند کرنے کے لئے تیار ننہ تھا۔” زرد رنگ تو خوشی اور زندہ دلی کی علامت ہے۔۔۔ یہ لہلہاتی سرسوں، یہ زرد سورج مکھی، یہ زرد چنبیلی، یہ زرد گلاب”۔۔۔۔

گلاب کا ذکر آتے ہی سرخ والے کو خیال آیا کہ وہ اپنے دلائل میں سرخ گلاب کا ذکر تو کر ہی نہیں سکا۔ اس نے سرخ گلاب کی بات چھیڑی۔ جامنی والا بتانا چاہتا تھا کہ گلاب کے ذکر پر تو سب سے زیادہ اس کا حق ہے مگر سرخ والے نے اسے بولنے ہی نہ دیا۔سبز والا کہنے لگا

” سبز رنگ تو زندگی کی اصل علامت ہے۔ شادابی، طراوت اور تازگی کی زبان یہ سبز رنگ ہی تو ہوتا ہے “۔
نارنجی والا کیسے چپ رہ سکتا تھا۔ اس نے پر جوش انداز میں بتایا کہ ” زندگی اور جوش کی علامت تو نارنجی رنگ ہوتا ہے”
وہ اپنا جملہ ختم نہ کرنے پایا تھا کہ سرخ والا اور زردد والا بیک زبان ہو کر بولے کہ نارنجی رنگ تو سرخ اور زرد رنگ کے ملاپ سے ہی تو پیدا ہوتا ہے۔یہ دونوں اگر اسے اپنی اولاد مانتے ہوئے قبول کر لیتے تو ایک بڑا اتفاق اور اتحاد وجود میں آ سکتا تھا۔پیلا تو اس بات پر بھی مغرور تھا کہ اس نے نیلے کے ساتھ مل کر سبز رنگ پیدا کیا ہے۔ گویا زرد رنگ اس مرد کی طرح کرسی تفاخر پر متمکن تھا جس کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں اور ہر بیوی سے اولاد بھی ہو۔

ان نصبی رنگوں کا بلاک بن سکتا تھا مگر یہاں لڑائی کی فضا ء تھی۔چاروں طرف طبل جنگ بجتے تھے۔ ماں جائے ایک دوسرے کو کاٹتے تھے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھا کر خود معزز اور معتبر ہونا چاہتے تھے۔ انا اور صرف انا کی حکمرانی تھی۔ وفا اور انکساری مغلوب ہونے کے بعد معدوم ہو چکی تھی۔

بہت سارے اختلافات کے باوجود زرد اور سرخ والا ایک بات پر اتفاق رائے کر تے نظر آئے۔ یہ اتفاق رائے عارضی سیز فائر تھا جس کے تعاقب میں پھر سے لمبی جنگ تھی۔تمام رنگ سفید رنگ کو اپنا مظہر مانتے تھے مگر یہ ماننا بھی زبانی کلامی تھا۔ ورنہ ان کے اندر سفید رنگ کی محبت محض کھوکھلی اور پھیکی تھی۔اس کے ساتھ ساتھ وہ سب سیاہ رنگ سے خائف بھی تھے۔ اس لئے سفید و سیارہ رنگوں کا کوئی گرمجوش حامی دکھائی نہیں دیتا تھا۔ یہ سبھی جانتے تھے کہ سیاہ و سفید جو دن اور رات کے رنگ بھی ہیں۔سفید رنگ جو سب رنگوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے۔

وہ یہ بھی علم رکھتے تھے کہ سارے رنگ اپنی انا اور اپنی ذات کو اس رنگ میں فنا کر کے لا زوال ہو جاتے ہیں۔ اور جب کوئی رنگ نہیں ہوتا تو پھر سیاہ رنگ ہی ہوتا ہے۔ کبھی ہیبت اور خوف کی علامت اور کبھی موت اور غم کا استعارہ۔

اس مجمع رنگا رنگی میں کئی مرتبہ یک رنگی کا نعرہ بلند ہوتا مگر پھر اسے الفاظ کی حدوں سے آگے جانے کی اجازت نہ ہوتی اور محض منہ کا ذائقہ بدلنے کا کام دیتا۔ 

پھر اس ذائقے میں وہی دائمی اور معمول کی کڑواہٹ آ جاتی کیونکہ اس مختصر سے مجمع میں پائی جانے والی مشترک اقدار میں سر فہرست کڑواہٹ ہی تھی۔ یہ کڑواہٹ ذرا سی کم ہوتی تو اس کا بھرم رکھنے والے آگے بڑھتے اور اسے دوبارہ سے تازہ کر دیتے۔
ایک بات جو یہاں اتفاق کی علامت تھی وہ مٹیالے رنگ کے خلاف مشترکہ دشمنی اور با جماعت اختلاف تھا۔ اس محفلِ مباحثہ میں کوئی بھی مٹیالے رنگ کا حامی نہ تھا۔ 

وہ سب یہ چاہتے تھے کہ کوئی مٹی اور مٹیالے کا ذکر نہ کرے۔ مگر پھر اس کا ذکر چھیڑ دیتے۔ جب یہ ذکر چھڑتا تو حاضرین میں ایک اتفاق رائے طے پاتا دکھائی دیتا۔
” مٹیالا۔۔۔۔ بد رنگ۔۔۔۔ نہ رنگ نہ روپ۔۔۔۔۔بے مزہ۔۔۔ پھیکا”
جب یہ گروہ گرج برس کر تھک جاتا تو پھر انہیں سیاہ رنگ کا خیال بھی آتا۔ یہ سب سیاہ رنگ سے خوفزدہ بھی تھے اور ڈرتے ڈرتے اس کا ذکر بھی کر تے تھے۔ 

جیسا سیاہ رنگ یا کوئی سیاہ رنگ کو چاہنے والا دیوار سے کان لگائے باہر ہی کھڑا ہے۔ اس کے بعد وہ اس سیاہ رنگ کو دانستاً بھلا دیتے اور دوبارہ اپنے کام کی طرف پلٹ آتے۔
جس مذاکرے کی بنیاد نفرت، خود پسندی اور تعصب پر ہوتی ہے اس کا کوئی اننجام نہیں ہوتا۔ بحث چلتی ہے اور چلتے چلتے بہت سی منزلیں طے کر جاتی ہے۔
آخر یہی ہوا۔ رنگا رنگی بد رنگی میں بدل گئی۔ 

اپنے اپنے رنگ کی توصیف و تعریف پہ قائم لوگوں نے ضد اور تعصب کی اگلی کئی منزلیں طے کیں۔ پھر سب کا اتفاق ہو گیا۔ اب اس اتفاق رائے کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور چارہ نہ۔ چاہتے، نہ چاہتے ہوئے سرخ رنگ سب پہ غالب آ چکا تھا۔ وہ سب سرخرو ہونے کے دعوے کے ساتھ آئے تھے۔ وہ سرخرو ہی کیا سرخ بدن بھی ہو چکے تھے۔ اب ہر طرف سرخ رنگ ہی تھا اور اس سرخ رنگ سے آگے تاحد نظر سیاہ رنگ تھا۔ رنگوں کی کہانی مکمل ہو چکی تھی۔