جب اُمیدیں ٹوٹ جائیں اور اپنی کہانی ویسے ہی…..ادھوری کہانی

محبت یہ زندگی تیرے نام
January 27, 2021
یہ محبت فساد کروائے گی
February 2, 2021

جب اُمیدیں ٹوٹ جائیں اور اپنی کہانی ویسے ہی…..ادھوری کہانی

شافعہ افضل

چائے کا بھاپ اُڑاتا کپ ہاتھ میں تھامے حویلی کی وسیع و عریض چھت پر کھڑی وہ تھکے ماندے سورج کے ڈوبنے کی آخری جھلک دیکھنے میں محو تھی۔ شام کا وقت ہمیشہ اس پر ایک خاموش اداسی بھری کیفیت طاری کر دیتا تھا۔ یادوں کے اُن دریچوں میں گھسیٹ کر لے جاتا جہاں سے واپس آنا ناممکن ہو جاتا۔ بچپن کی حسین وادیاں، لڑکپن کی بے فکری، جوانی کی بے اختیاریاں۔ پہلی مرتبہ جب منشی اللّٰہ یار کے بیٹے اسفند یار کو دیکھ کر اس کا دل دھڑکا تھا پھر بڑی مشکل سے قابو میں آیا وہ شہر سے پڑھ کر آیا تھا خوبرو اور باادب تھا اپنے والد کے ساتھ گیتی آراء کے والد چوہدری نواز دین کی زمینوں کے معاملات دیکھتا تھا۔ منشی اللّٰہ یار کو اپنے بیٹے پر بڑا ناز تھا۔ گیتی کے والد چوہدری نواز دین وسیع ذہن کے مالک تھے وہ عام ذمین داروں کی طرح اپنے ملازمین کو خود سے کم تر نہیں سمجھتے تھے ان سے بہت اچّھا سلوک کرتے ان کے حقوق ادا کرنے میں کبھی کوتاہی نہیں کرتے۔
گیتی کو آج تک اسفند سے اپنی پہلی ملاقات یاد تھی۔ شام ہی کا وقت تھا۔ سورج اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا۔ آسمان پر بڑے خوبصورت رنگ بکھرے ہوئے تھے جن کا عکس گیتی آراء کے چہرے پر بھی رنگ بکھیر رہا تھا۔ وہ کھیتوں کی سیر کے لیے گئی تھی۔ واپسی پر اس کا سامنا اسفند یار سے ہوا۔ اس نے ایک نظر گیتی کو دیکھا تو نظر نے واپس پلٹنے سے انکارکر دیا۔ وہ ٹھٹھک کر رُک گیا۔ وہ اس حسین شام کا حصّہ معلوم ہو رہی تھی۔ گیتی کے قدم بھی آگے بڑھنے سے انکاری تھے۔ دونوں ایک دوسرے میں محو تھے۔ اچانک آذان کی آواز ان کو حقیقت کی دنیا میں واپس لے آئی۔ گیتی جلدی سے حویلی کی جانب بڑھ گئی کیونکہ مغرب کے بعد گھر سے باہر رہنے کی اجازت نہیں تھی۔ اسفند یار نظروں سے اوجھل ہونے تک اسے دیکھتا رہا۔ اس کا دل اس منظر سے باہر آنے سے انکاری تھا۔
گیتی آراء اور اسفند یار کی نوخیز محبّت پروان چڑھنے لگی۔ مگر نہ تو کبھی باقاعدہ ملاقات ہوئی نہ عہد و پیماں۔ بس ایک خاموش احساس تھا جو دونوں کے دلوں میں پروان چڑھ رہا تھا۔ گاؤں کے اونچے نیچے راستے ان کی محبت کے گواہ تھے۔ ہر شام جب اسفند یار حساب کتاب دینے حویلی آتا تو گیتی چھت پہ کھڑی اس کی راہ تک رہی ہوتی۔ دونوں ایک نظر ایک دوسرے کی جانب دیکھتے اور حالِ دل عیاں ہو جاتا۔ ایک مسکراہٹ دن بِتانے کا سبب بن جاتی۔ نہ جانے کیسے اس خاموش محبّت کی بھنک چوہدری نواز دین کو پڑ گئی۔ انھوں نے فوری طور پر گیتی آراء کی شادی اپنے بھتیجے امیر دین سے کر دی جو گیتی آراء کا منگیتر تھا۔ چوہدری نواز دین لاکھ وسیع النّظر سہی مگر منشی کے بیٹے سے اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی کرنے پر تیّار نہیں تھے۔ بعد میں اسفند یار کی بھی شادی ہو گئی اور وہ شہر جا کر بس گیا۔ گیتی آراء اور اسفند یار کی کہانی ادھوری رہ گئی مگر یہ ان دونوں ہی کی بقا کے لیے ضروری تھا ورنہ کون نہیں جانتا کہ اس بے جوڑ محبت کا انجام کتنا خطرناک ہو سکتا تھا؟
آج اتنے برس گزرنے کے بعد بھی جب وہ حویلی آتی تو شام کا یہ منظر اسے یادوں کے اُس خوبصورت دریچے میں لے جاتا جہاں نوخیز محبّت کا وہ منظر آج بھی اسی طرح ترو تازہ تھا۔