حکومت میں ملک چلانے کی نہ صلاحیت ہے اور نہ ہی قابلیت، چیف جسٹس

وزیراعظم نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کردی
August 31, 2020
نواز شریف وطن واپس آنے کے لیے بہت بے چین ہیں، مریم نواز
September 1, 2020

حکومت میں ملک چلانے کی نہ صلاحیت ہے اور نہ ہی قابلیت، چیف جسٹس

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ حکومت میں ملک چلانے کی نہ صلاحیت ہے اور نہ ہی قابلیت۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فاضل بینچ نے کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے متعلق کیس پر کی۔ دوران سماعت سپریم کورٹ نے کے الیکٹرک اور پاور ڈویڑن پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پاور ڈویڑن کی رپورٹ کے الیکٹرک سے پیسے لے کر بنائی گئی، جس پاور ڈویڑن والے افسر نے رپورٹ جمع کرائی اس کو پھانسی دے دینی چاہیے۔ کیوں نہ ایسی رپورٹ پر جوائنٹ سیکرٹری کو نوکری سے فارغ کر دیں، ہم نے موجودہ صورتحال پر رپورٹ مانگی تھی انہوں نے مستقبل کا لکھ دیا، مسقبل کو چھوڑ دیں، اب کیا کررہے ہیں اس کا بتایا جائے، پاور ڈویڑن والوں کو کراچی لے جائیں دیکھیں لوگ کیسے ان کو پتھر مارتے ہیں، کراچی جاکر ان لوگوں کا دماغ ٹھیک ہو جائے گا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے کہا تھا کہ نیپرا اور دیگر ادارے کراچی میں لوڈ شیڈنگ کے مسئلے کا حل نکال کر آئیں، کراچی میں بارشوں کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہو چکی ہے۔ کے الیکٹرک والے اسٹے آرڈر لے کر پانچ سال تک بیٹھے رہتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ خواہ مخواہ کہا جاتا ہے کراچی ملکی معیشت کا 70 فیصد دیتا ہے، کراچی کے پاس دینے کے لیے اب کچھ نہیں۔ کراچی میں اربوں روپے جاری ہوتے ہیں لیکن خرچ کچھ نہیں ہوا، 4 سال میئر رہنے والے نے ایک نالی تک نہیں بنائی۔ لوکل گورنمنٹ والوں کو جتنے بھی پیسے ملے وہ تنخواہوں پر خرچ کئے گئے ہیں۔ آج بھی آدھا کراچی پانی اور اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے، کراچی میں کے ایم سی اور کنٹونمنٹ بورڈ ہے لیکن ان کے ملازم نظر نہیں آرہے، شہر کی دیکھ بھال کا ذمہ حکومت کا ہے لیکن ہمیں علم ہے کہ کراچی کے کرتے دھرتے کچھ نہیں کریں گے۔ وہ تومنہ سے نوالہ بھی چھین لیتے ہیں۔ پہلے ہی اربوں روپے بیرون ملک جاچکے ہیں، کراچی میں مال بنانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، کراچی والوں کے بیرون ملک اکاونٹ فعال ہوچکے ہیں۔