آرٹسٹ لوگ
June 2, 2021
“لاچاری سے اپنا تماشہ دیکھا”
June 16, 2021

تنگ سفر

Tang Safar

جنوری کی ایک سرد صبح شبّیر قریب کوئی چھ بجے الارم کی آواز سے اٹھتاہے۔ یوں تو طبیعت گرم بستر چھوڑنے کی اجازت نہیں دے رہی تھی مگر یہ خیال کہ آج جامع(یونیورسٹی ) کا پہلا روز ہے شبّیر کی طبیعت کو چاک و چونبد کردیتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ پہلا روز ہے آج سے ذندگی میں کافی کچھ نیا ہوگا، شبّیر کو خروش و بے قراری تو ہونی ہے تھی۔آنکھوں کو مسلتے ہوئے شبّیر اپنا بستر چھوڑ دیتا ہے اور جاکر اپنی والدہ کو اٹھاتا ہے۔

والدہ اپنا بستر چھوڑ چھاڑ اٹھ کھڑی ہوتی ہیں کے بچے کا پہلا روز ہے۔ شبّیر سوفے پر جا بیٹھتا ہے اور والدہ محترمہ نیند میں جھومتی ہوئی باورچی خانے کا رخ کرتی ہیں ، ایک بھگونے میں پانی بھر کے اسے چولھے پر گرم کرنے کے واسطے چڑھا دیتی ہیں ، اور خود بیت الخلاء کی طرف چل دیتی ہیں۔

شبّیر ابھی سوفے پر بیٹھا اونگھ ہی رہا ہوتا ہے کہ والدہ بیت الخلاء سے باہر آکر شبّیر کو آواز دیتی ہیں ،” شبّیر پانی گرم ہوگیا ہے،تم منہ دھو لو ، فریش ہوجاوٴ میں جب تک ناشتہ تیار کردوں “۔

 

اب شبّیر غسل خانے کی جانب چل دیتا ہے۔ اور کوئی پندرہ منٹ بعد تر وتازہ صورت کے ساتھ غسل خانے سے برآمد ہوتا ہے۔باورچی خانے میں جاتا ہے تو ناشتہ تیار رکھا ہوتا ہے اور والدہ اپنے کمرے کا رخ کر چکی ہوتی ہیں۔ بہرحال ناشتہ کرنے کے بعد شبّیر اپنے کپڑے استری کرتا ہے ، کپڑے بدلتا ہے اور کھڑا ہوجاتا ہے آئینے کے سامنے خود کو سنوارنے۔ سر میں کنگھا پھیر ہی رہا ہوتا ہے کہ اسے یاد آتا ہے کہ آج پہلے روز تو میں نے پوائنٹ (یونیورسٹی کی ٹرانسپورٹ سروس ) سے جانا ہے جو ٹھیک پونے آٹھ بجے اسٹاپ پر آجائے گی ۔

شبّیر گھڑی کی طرف دیکھتا ہے تو سات بج کر بیس منٹ ہو چکے ہوتے ہیں ۔شبّیر اب جلدی جلدی کنگھا کر کرا کے جوتے چھڑاتا ہے بستہ اٹھاتا ہے اور والدہ سے دعائیں لیتا ان کو کمرے میں مطلع کرتے ہوئے کہ میں جا رہا ہوں دروازے کی طرف دوڑ جاتا ہے۔
آخر کو اب شبّیر اسٹاپ پر ہوتا ہے، جو کہ اس کے گھر سے ذیادہ دور نہیں بلکہ پانچ گلیوں کے فاصلے پر تھا ۔

شبّیر بے صبری سے بس کا انتظار کر رہا ہوتا ہے اور گردن اچکا اچکا کر بس کے آنے والے راستے کی جانب دیکھ رہا ہوتا ہے کہ اب آئی کب آئی ۔بلآخر دور سے اسے ایک بڑی خستہ حال بس اپنی جانب آتی ہوئی نظر آتی ہے جس پر اسکی جامع(یونیورسٹی )کا نام صاف صاف لکھا ہوتا ہے۔بس اس کے قریب آن پہنچتی ہے اور وہ بس کو ہاتھ کے اشارے سے روک کر اس میں سوار ہوجاتا ہے اور بس چل پڑتی ہے۔

بس میں سوار ہوکر شبّیر کیا دیکھتا ہے کہ بس میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہے ، بس کھچاکھچ بھری ہوئی ہے۔ کل کوئی آٹھ لڑکے بس میں موجود ہیں جس میں سے چار تو کھڑے ہوئے ہیں ، لڑکوں کے لیئے بس کی سب سے آخری والی چار سیٹیں ہی متعین ہیں ۔باقی پوری بس میں لڑکیا ں سوار ہیں جو بیٹھی ہوئی ہیں وہ تو ہیں ہی لیکن جو کھڑی ہیں وہ بھی سر سے سر ملائے ہوئے ہیں اور اپنے بستے بیٹھی ہوئی لڑکیوں کو پکڑائے ہوئے ہیں ۔

اب ڈرایئور لگاتا ہے چلتی بس کو بریک اور بس ھچکولے کھاتی ہوئی رک جاتی ہے اپنے اگلے اسٹاپ پر ۔ اس اسٹاپ سے بھی بس میں کوئی سات لڑکیاں چڑھتی ہیں ، جو کہ بس میں مزید گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ ہی ہیں ۔ اب کنڈکٹر کی صدا بلند ہوتی ہے،”ہاں بھائی جگہ بناوٴ جگہ بناوٴ ، ہاں تو کالی جیکٹ والے لڑکے سرک تھوڑا پیچھے اور، ہاں لڑکی ساتھ ہوجاوٴ اور تھوڑا شابا“۔

اب بس مزید لڑکیا ں اپنے اندر ٹھونس کر دوبارہ چل پڑتی ہے ۔بس میں جگہ اتنی تنگ ہوجاتی ہے کہ پیروں پر پیر پڑرہے ہوتے ہیں بس کے پائے دان تک پر جگہ باقی نہیں رہتی گو کہ باہر سے دیکھنے والے کو یہ معلوم ہو کہ اس بس میں صرف لڑکیاں ہی سوار ہیں ۔سخت سردی میں بھی گرمی محسوس ہونے لگتی ہے شبّیر بڑی مشقت سے اپنا بستہ بیٹھے لڑکے کو پکڑا دیتا ہے ۔ اور دونوں ہاتھوں سے بس کی چھت پر لگے قبضوں کو مضبوطی سے تھام لیتا ہے، اور اکڑ کر بالکل ست کھڑ ا ہوجاتا ہے ، کیونکہ ایک لڑکی جو قد میں کافی چھوٹی تھی شبّیر کے پیروں پر کھڑی ہوتی ہے اور ہر ھچکولے کے ساتھ شبّیر کے سینے سے ٹکرارہی ہوتی ہے، جب ٹکرائے جب معصوم بلی جیسی شکل بنائے اور کہہ دے ”سوری(sorry)“۔

ظاہر ہے اب لڑکی ہے تو سوری (sorry)سے کام چل ہی جاتا ہے۔اپنے دھڑ کا نچلا حصہ شبّیر کسی طرح سمبھالے ہوئے تھا ورنہ اگر وہ بھی ٹکرا جاتا تو ایسی نازک صورتِ حال میں قصور وار مرد ہی ہوتا ہے۔ہر جھٹکے پر شبّیر کے چہرے کا رنگ آتا اورجاتا تھا۔شبّیر اپنا منہ دائیں جانب گھماتا ہے تو سروں کے بیچ کی خلاء میں سے کھڑکی سے اسے اپنی جامع(یونیورسٹی ) کی ایک اور بس دکھائی دیتی جس کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا جیسا اس بس کا تھا جس میں شبّیر سوار تھا۔

دوسری بس تو اتنی بھری ہوئی تھی کہ ذیادہ وزن ہونے کی وجہ سے بائیں جانب جھکی ہوئی تھی اور اس میں بھی لڑکیاں ہی سوار تھیں ۔یہ سفر خطرناک بھی ہے اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی بھی خیر اس ملک میں قوانین کی پاسداری کرتا کون ہے جو یہ کر لیتے ۔یہ دیکھتے بس اب جامع (یونیورسٹی ) میں داخل ہوتی ہے ، تھوڑا اور دور چل کر اسٹاپ پر رکتی ہے۔تھوڑی جگہ بنتی ہے تو شبّیر گہرا سانس بھرتے ہوئے اپنی پشت کی طرف بیٹھے لڑکے سے مخاطب ہوکر تھوڑی اونچی آواز میں کہتاہے،”خواتین میں شرح خواندگی نہ ہونے کے برابر ہے لیکن پورے سفر میں میری سمجھ سے باہر یہ بات رہی کہ یہ لڑکیوں کا بھڑ یونیورسٹی آتا ہے تو آخر پھر جاتا کدھر ہے!“۔

لڑکیاں شبّیر کی طرف نتھنے پھلائے اپنے جبڑوں کو کستے ہوئے دیکھتی ہیں ۔ یہ شبّیر کا جامع کی بس میں پہلا اور آخری دن تھا ، اس نے ارادہ کر لیا تھا آئیندہ میں اپنی موٹر سائیکل پر ہی آونگا۔