شادی بیاہ کی فضول رسومات

پردہ کی ضرورت و اہمیت
September 25, 2020
کیرئیر کی متلاشی،آج کی عورت
December 2, 2020

شادی بیاہ کی فضول رسومات

محمد صدیق پرہار
شادی بیاہ کے بارے میں اسلامی تعلیمات
اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ہم مسلمان ہیں ۔ ہمیں اپنے تمام ترمعاملات میں اغیارکی نقالی کرنے کی بجائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ ءحسنہ سے راہنمائی لینی چاہیے۔ہماری بھلائی اغیارکی نقالی کرنے میںنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ ءحسنہ پرعمل کرنے میں ہے۔زندگی کے دوسرے معاملات کی طرح شادی بیاہ کے سلسلے میں بھی رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہءحسنہ میں واضح راہنمائی موجودہے۔ہم اپنی شادیاں نبی کریم صلی اللہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق کریں توشادیاں بہت آسان ہوجائیں گے۔ اس لیے شادی آسان کروتحریک کاپہلاپیغام یہ ہے کہ شادیاں رسم ورواج کے مطابق نہیں اسلامی تعلیمات کے مطابق سادگی سے کریں۔جس طرح کسی بھی اپنے قانونی معاملات سے پہلے کسی وکیل سے ، اپنی کسی بیماری کے سلسلہ میں ڈاکٹریاحکیم سے اپنے جائیدادکے معاملات کے لیے پٹواری سے مشورہ کرتے ہیں اسی طرح شادیاں کرنے سے پہلے کسی مستندعالم دین سے بھی مشورہ کرلیناچاہیے تاکہ شادیوں پراللہ اوراس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی سے بچاجاسکے۔
شادی بیاہ کے اخراجات
شادیوںپرزیادہ اخراجات کرناہماری معاشرتی مجبوری بھی ہے اورہمارے وقارکی علامت بھی ہے۔اکثریہ خیال کیاجاتا ہے کہ شادی پرزیادہ اخراجات نہ کیے تو لوگ طرح طرح کی باتیںکریں گے۔ ہم لوگوں کی باتوں سے بچنے کے لیے کیاکچھ نہیںکرتے مگرلوگوںکی باتوں سے بچ بھی نہیں سکتے۔ لوگ باتیں بنانے اور سنانے کے لیے کوئی نہ کوئی جوازتلاش کرہی لیتے ہیں۔عزت اوروقارشادیوں پرزیادہ اخراجات میںنہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اوراس کے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فرماںبرداری میں ہے۔لوگ دوچاردن تک باتیں بنانے اورسنانے کے بعدخاموش ہوجائیں گے۔ مگرلوگوںکی باتوں سے بچنے کے لیے قرض لے کر زیادہ اخراجات کرلیے اورقرض ادانہ کرسکے تو لوگوں کی باتوں سے بھی نہیں بچ سکیں گے اور جب تک قرض خواہ معاف نہ کرے قرض معاف نہیںہوگا ۔اس لیے شادی آسان کروتحریک کاپیغام ہے کہ شادیاں کم سے کم اخراجات میں سادگی سے کریں اپنے اخراجات اس طرح کریں کہ قرض کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ اگر آپ کے پاس اتناسرمایہ ہے کہ آپ شادیوں پرلاکھوں روپے آسانی سے خرچ کرسکتے ہیں۔پھربھی شادیوں پرزیادہ اخراجات کرنادانش مندی نہیں ہے ۔
رشتوں کامعیارکیساہوناچاہیے
جب سے ہم نے رشتوںکوجوڑنے سے زیادہ لالچ کوترجیح دینے کارواج ڈالا ہے تب سے رشتوںکے معیاربھی لالچ کے پیمانے میں ہی طے کیے جاتے ہیں ۔ دونوں فریقین اپنااپنافرض اداکرنے کی بجائے ایک دوسرے پراحسان ڈال کررشتے طے کرتے ہیں۔ آج دونوں طرف سے رشتہ طے کرتے وقت یہ دیکھاجاتا ہے کہ جائیداد، سرمایہ کتناہاتھ آئے گا۔کس کی تنخواہ اورکس کاکاروباردستیاب رشتوں میں سب سے زیادہ ہے۔موجودہ دورمیں رشتے طے کرتے وقت کردار و اخلاق نہیں بلکہ اس کی آمدنی کوترجیح دی جاتی ہے۔ بدکردار زیادہ آمدنی کمانے والا توقبول مگرباکردارشریف النفس کم آمدنی والاقبول نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ بدکردارکوہدایت دے گا اس کے ساتھ یہ یقین بھی کرلیاجائے کہ اللہ کم آمدنی والے کی آمدنی بڑھانے کے اسباب بھی پیداکردے گا۔ رشتوں کا معیار کیا ہونا چاہیے اس بارے دواحادیث مبارکہ سے روشنی حاصل کریں۔
رسم ورواج
شادی بیاہ کی تقریبات کورسم ورواج نے جکڑرکھا ہے۔ہم نے ایسے ایسے رسم ورواج کوشادی بیاہ کے لیے انتہائی ضروری سمجھ رکھا ہے جوانتہائی غیرضروری ہے۔ ایسے رسم ورواج نہ کیے جائیں توشادی پرکوئی اثرنہیں پڑتا۔رسم حنا،مہندی، مایوں، میل، موسیقی، رقص، جھومر، ڈانس، مجرے اورنہ جانے جانے کیاکیا خرافات شادیوں کی رسومات کے نام پرکرتے ہیں۔ان رسومات کاہمارے مذہب اسلام، ہماری شادیوں اورہماری ثقافت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ایسی فضول رسومات کاسلسلہ بندکردیاجائے تووقت اورپیسہ دونوں کی بچت ہوگی۔ ہم ایسی فضول رسومات اداکرنے میں وقت اورپیسہ فضول خرچ کرتے ہیں اورفضول خرچ شیطان کابھائی ہے۔ان رسومات کوچھوڑ کرقرآن خوانی، محافل میلاد، محافل نعت، محافل سماع کااہتمام کریں ۔ اس میں جووقت اورپیسہ خرچ ہوگا وہ بروزقیامت ہماری نجات کاسبب بنے گا۔
جہیز سے پرہیز
جس طرح کسی بھی بیماری کے لیے کچھ چیزوں سے پرہیزانتہائی ضروری ہوتا ہے اسی طرح شادی بیاہ کوآسان بنانے کے لیے جہیزسے پرہیزاس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔امہات الموئمنین اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تین بیٹیوںکاکوئی جہیزنہیں ہے۔خاتون جنت کوجوسامان دیاگیاتھا وہ جہیزنہیںگھرمیں استعمال کرنے کی ضروری اشیاءتھیں ۔یہ سوال کیاجاسکتاہے کہ جب خاتون جنت کوگھرکی ضروریات کی اشیاءدی گئی ہیں توآج بھی بیٹیوںکوضرورت کی اشیاءدی جاسکتی ہیں۔اس کاجواب یہ ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے نیامکان لیاتھا اس نئے گھرمیں ان چیزوں کی ضرورت تھی۔ اس کے علاوہ امہات الموئمنین ، ابنات رسول ، صحابہ کرام، اہل بیت کی جتنی بھی شادیاں ہوئیں ان میں سے کسی کاکوئی جہیزنہیںکیوں کہ سب کے گھروں میں ضروریات زندگی پہلے سے ہی موجودتھیں ،موجودہ دورمیں ضروریات زندگی کی اشیاءہرگھرمیں موجودہیں۔ اس سوال کادوسراجواب یہ ہے کہ اس وقت ضروریات زندگی مختصرتھیں موجودہ دورمیںضروریات زندگی میں بہت زیادہ اضافہ ہوچکاہے۔ موجودہ دورمیں تمام ضروریات زندگی ہرشخص نہیں خریدسکتا۔اس لیے جہیزکاجوازہی نہیں بنتا ۔ جہیز سے پرہیز شادی آسان کرو تحریک کی منفردمہم ہے جس میں نوجوانوںکوترغیب دی جاتی ہے کہ وہ جہیزلینے سے انکارکردیں ۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ نوجوان جہیزسے پرہیزمہم میں دل چسپی لیتے ہوئے شادی کرنے پرجہیزنہ لینے کااعلان کررہے ہیں
حق مہر
اسلامی تعلیمات میں حق مہرکی کم سے کم حدمقررہے زیادہ کی نہیں۔ کم سے کم حق مہردوتولہ سات ماشے تین رتی چاندی یااس کی رائج الوقت قیمت ہے ۔ اس سے زیادہ جتناچاہیں حق مہردے سکتے ہیں مگرزیادہ حق مہرکوبھی ناپسندیدہ قراردیاگیا ہے۔حق مہراتناہوناچاہیے کہ دینے والاآسانی سے اداکرسکے۔حق مہرعورت کاحق ہوتا ہے یہ بروقت اورضروراداکرناچاہیے۔شادی آسان کروتحریک کاپیغام ہے کہ دولہاشریعت اسلامیہ میں مقررکردہ کم سے کم حق مہریااس سے زیادہ اپنی مرضی سے جتناچاہے دے سکتاہے دلہن والے اس سے زیادہ کامطالبہ نہ کریں ۔ دولہاسے حق مہرکے علاوہ کچھ بھی طلب نہ کیاجائے کہ یہ رشوت ہے اوررشوت لینے والا اوردینے والادونوںجہنمی ہیں۔
نکاح کے وقت شرائط
دولہااوردلہن کانکاح کرتے وقت ایسی ایسی شرائط بھی لکھ دی جاتی ہیں جن کی کوئی ضرورت نہیںہوتی۔ ایسی شرائط سے رشتے مضبوط ہوتے ہیںیاکمزور اس بات کاادراک فریقین میں سے کسی کوہوجائے توکوئی شرط لکھی ہی نہ جائے۔ لکھ دیاجاتا ہے کہ دولہا دلہن کوطلاق دے گا یادوسری شادی کرے گاتواتنے پیسے (لاکھوںمیں)دے گا ۔ طلاق دینا اوردوسری شادی کرنا مردکاحق ہے ۔شرط لگاکرمردکواس کاحق استعمال کرنے سے روک دیاجاتاہے۔ کہاجاتاہے کہ یہ سب دلہن کے تحفظ کے لیے کیاجارہاہے۔ اگرتحفظ ہی درکارہے توپھردولہاکی حفاظت کے لیے بھی توکوئی شرط ہونی چاہیے۔ گھربسانے کے لیے شرطوں کی نہیں اچھی تربیت کی ضرورت ہے۔ اگربچوںکی اچھی تربیت کی گئی ہوتوایسی کسی شرط کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔شرطیں لگانے سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ اولادکی تربیت کی طرف توجہ دی جائے ۔انہیںگھرچلانے اورگھربسانے کے سنہری اصولوں سے آگاہ کیاجائے۔ انہیںگھرمیںلڑائی ،فساد، غلط فہمیوں، شک، وہم، بدگمانی اور بد اعتمادی جیسی بیماریوں سے دوررہنے کی نصیحت کی جائے
دعوت ولیمہ
شادی بیاہ کے بعددعوت ولیمہ کرنا سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی دعوت ولیمہ کیا اورولیمہ کرنے کی ترغیب بھی دی۔ احادیث مبارکہ میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کوترغیب دی کہ ولیمہ کروچاہے ایک بکری ہی سہی۔بانی شادی آسان کروتحریک کی اس بارے ایک عالم دین سے گفتگوہوئی تواس عالم دین نے کہا کہ سعودی عرب میں بکری سب سے سستا جانورہے۔ جب کہ پاکستان میں بکری کاگوشت سب سے مہنگا ہے۔عالم دین نے کہا کہ اگرپاکستان میں بکری سے ولیمہ کرنے کی ترغیب دی جائے تواس سے اخراجات اوربڑھ جائیں گے۔
اجتماعی شادیاں اجتماعی ولیمہ
یہ توآپ سب نے یہ سن رکھاہوگا کہ اتفاق میںبرکت ہے۔ اس میںکوئی دورائے نہیں کہ اتفاق میںبرکت ہے۔ سکولوں میں اتفاق میں برکت ہے کہ عنوان سے بچوںکوکہانی بھی پڑھائی جاتی ہے۔اسی وجہ سے شادی آسان کروتحریک کاپیغام ہے کہ اسی سچائی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جہاں شادیوںپربلائے جانے والے اکثرمہمان مشترکہ ہوں خاندان برادری کی سطح پراجتماعی شادیاں اوراجتماعی ولیموںکااہتمام کیاجائے اس سے اخراجات بھی کم آئیں گے اوربرکت بھی ہوگی، وقت اورسرمایہ کی بچت بھی ہوگی۔
شادی کاروزگارسے تعلق
مسئلہ صرف روزگارکاہوتاتواوربات تھی یہاں تودولہاکے صاحب روزگارہونے کے لیے اونچے اونچے معیار مقرر کر لیے جاتے ہیں۔ معمولی ملازمت یاکاروبارکوتوکسی شمارمیںنہیںلایاجاتا۔ کہاجاتا ہے یہ بھی کوئی کام ہے کوئی اوراچھاساکام کرو۔ اس بات کی کیاگارنٹی ہے کہ آج جس کی ہزاروں روپے روزانہ آمدنی ہے اس میں کبھی کمی نہیں آئے گی ۔ یہ بھی توہوسکتا ہے کہ جوآج دوچارسوروپے روزانہ کمارہا ہے اللہ اس کے رزق میں اضافہ کردے ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایسے صحابی کانکاح کرایا جس کے پاس پہننے کے لیے صرف ایک چادرتھی ۔ اس کے پاس حق مہردینے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔ رحمت دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس صحابی سے یہ نہیں فرمایا کہ تیرے پاس حق مہردینے کے لیے بھی کچھ نہیں توبیوی بچوںکی کفالت کیسے کرے گا۔سورة النور کی آیت نمبر۲۳ کاترجمعہ ہے کہ
” اورنکاح کردواپنوں میںان کاجوبے نکاح ہوں اوراپنے لائق بندوں اورکنیزوںکااگروہ فقیرہوں تواللہ انہیں غنی کردے گااپنے فضل کے سبب اوراللہ وسعت والا علم والاہے۔“
پسندکی شادی کرنا
اسلام امن وسلامتی کادین ہے۔ اس لیے شادی کرنے میں والدین اوراولادکسی کوبھی ایک دوسرے پراپنی مرضی مسلط کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ دین اسلام میں شادی کے سلسلہ میں والدین کے احترام اوراولادکی خواہشات کااحترام کیاگیا ہے۔ اسلام میںپسندکی شادی کی اجازت ہے۔ لڑکااورلڑکی اپنی اپنی پسندکی شادی کرسکتے ہیں مگرولی(والدین یاسرپرست ) کے بغیر اپنے طورپرنہیں۔
ہم سب کی ذمہ داری
کسی بھی معاشرے میںپائی جانے والی غلطیوںکودرست کرنااسی معاشرے کے تمام نمائندہ شخصیات کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ شادی بیاہ کے معاملات کواسلامی تعلیمات کے مطابق درست کرنے کے لیے بھی نمائندہ شخصیات کواپنااپناکرداراداکرناچاہیے۔اگرکوئی مشائخ عظام اپنے اپنے مریدوں ، متعلقین کو، علماءکرام اپنے خطابات میں عوام کو، معلمین ،مدرسین، پروفیسرز، ٹیچرز اپنے اپنے شاگردوںکو،صحافی، کالم نویس اپنی اپنی تحریروںمیں، سب مسلمان اپنے اپنے رشتہ داروں، دوستوں، اپنے اپنے دائرہ اختیارمیں رہتے ہوئے یہ شعوربیدارکریں کہ جہیز،زیورات، مہندی ،مایوں سمیت شادی بیاہ کی فضول رسومات کوختم کردیں ، اخراجات کم سے کم کریں، فریقین ایک دوسرے سے بے جا مطالبات نہ کریں،شادی آسان کروتحریک کے پیغامات کوعام کریں۔
حکومتی اقدامات
شادی بیاہ کی فضول رسومات، غیرضروری اخراجات اوربے جا مطالبات کے خاتمے کے لیے وفاقی وصوبائی حکومتوںکواقدامات کرناہوں گے۔ قانون سازی کرکے جہیز پرپابندی لگاناہوگی، نکاح فارم سے جہیز کاخانہ ختم کرناہوگا، قانون سازی کرکے واپسی جہیزکے مقدمات کاسلسلہ ختم کردیاجائے تواس کے بہترین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔میٹرک سے بی اے تک اردو، اسلامیات اورمعاشرتی علوم کی کتابوںمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ، اہل بیت اطہارکی شادیوں کے احوال پڑھائے جائیں، مضمون نویسی اورکہانی نویسی کے ذریعے شادی بیاہ کی فضول رسومات، غیرضروری اخراجات اور بے جامطالبات کے خلاف نسل نوکی تربیت کی جائے۔