تعلیم نسواں کی ضرورت و اہمیت

 شوہر کا دل کیسے جیتا جائے؟
February 1, 2021
نوٹ: ڈیئر عمر دی گریٹ ، لڑکی کی اپنی ماں کیساتھ سیلفی والی تصویر اہم ہے!
April 29, 2021

تعلیم نسواں کی ضرورت و اہمیت

سید مظہر حسین
عورت اور مرد معاشرے کے اہم ستون ہیں اور معاشرے کی بقا کے لیے دونوں کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے تعلیم لازمی ہے ۔ تعلیم ایک زیور ہے ۔تعلیم انسان کو حیوانیت سے نکال کر اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کرتی ہیں ۔ ہمارے مذہب میں تعلیم کے حاصل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا©©”جوشخص علم کے حصول کے لیے کسی راہ کا مسافر ہو اللہ تعالی اس کے لیے جنت کی راہ آسان کر دیتے ہیں “ اسلام نے عورت کو معاشرے میں عزت کا مقام دیا ہے اور اس کے ساتھ عورتوں کی دینی و دنیاوی تعلیم کے حصول پر زور دیا گیا ہے۔اب ایک بات تو واضح ہو گئی کہ مذہب اسلام نے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کی تعلیم کو بھی اہم قرار دیا ہے ایک تعلیم یافتہ خاتون ایک نسل کو پروان چڑھانے میں بہت اہم فریضہ ادا کرتی ہے اگر ماں پڑھی لکھی ہو گی تو یقینااس کی اولاد میں بھی اچھے اوصاف ہوں گے جو یقینا معاشرے کے لیے سود مند ثابت ہوں گے کیونکہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے لوگوں کا تعلیم یافتہ ہونا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے لیکن نپولین کے مطابق ”تم مجھے تعلیم یافتہ ماں دو میں تمہیں مہذب قوم دوں گا“ایک اور مقولہ کے مطابق ”اگر آپ کسی مرد کو تعلیم دلوائیں تو وہ ایک شخص کی تعلیم ہو گی لیکن اگر آپ ایک عورت کو تعلیم دیتے ہیں تو گویا آپ پورے معاشرے کو تعلیم دیتے ہیں“
کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے تعلیم لازمی ہے اسلام نے عورت کو معاشرے میں عزت کا مقام دیا ہے اور عورتوں کی دینی و دنیاوی تعلیم کے حصول پر زور دیتا ہے اس کے باوجود ہمارے اپنے ملک میں کئی علاقے ایسے ہیں جہاں پر عورت کو تعلیم کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے آج بھی ہمارے ملک میں ایسے علاقے موجود ہیں جہاں پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ عورت کا علم حاصل کرنا ضروری نہیں ہے۔تعلیم تو ذہن کے بند دریچوں کو کھولتی ہے اور انسان کو روشنی عطاکرتی ہے تا کہ وہ درست سمت کا تعین کر سکے کوئی معاشرہ تعلیم کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا اور نہ ہی ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے۔تعلیم نسواں پر توجہ مرکوز کر کے کسی بھی ملک میں معاشی و اقتصادی ترقی لائی جا سکتی ہے ۔لوگ اکثر کہتے ہیں لڑکی کو تعلیم کیوں دلوائیں اور اس پر اتنا خرچا کیوں کریں جب اس نے آگے جا کر ہانڈی روٹی ہی کرنی ہے اور گھر سنبھالنا ہے ۔ ایسے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ عورت کے دم سے یہ معاشرہ قائم ہے جو اپنی گود میں نسلوں کو پروان چڑھاتی ہے اب جس نے نئی نسل کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ آگے چل کر اس معاشرے کو سنبھال سکے جب وہ خود کسی قابل ہو گی تو ہی معاشرے کی مضبوط بنیاد رکھ پائے گی ۔ سب سے بہترین درسگاہ ماں کی گود ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر ایک کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے ۔ اسی طرح تعلیم یافتہ ماں اپنے بچوں کی بہتر انداز میں پرورش کر سکتی ہے اور زندگی کے ہر موڑ پر ان کی ڈھال بن سکتی ہے۔اسی طرح تعلیم یافتہ ماں مذہب کی بھی امین اور محافظ ہوتی ہے ایک تعلیم یافتہ ماں ہی معاشرے کی بہترین معمار ہے ۔ ایک تعلیم یافتہ عورت اپنی عفت و عصمت کی حفاظت کرنا جانتی ہے ۔علامہ اقبال کے مطابق”مرد کی تعلیم ایک فرد کی تعلیم ہے جبکہ ایک عورت کی تعلیم ایک خاندان کی تعلیم ہے “اس بات سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ ایک عورت کو تعلیم دینا کتنا ضروری ہے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی بہن بیٹیوں کو سب سے پہلے مذہبی تعلیم سے بہرہ ور کریں اس کے بعد عام تعلیم جس میں تاریخ، سائنس ، ٹیکنالوجی ہر ایک شعبے میں تعلیم دینے کو اولیت دینی چاہیے۔
میری نظر میں عورتوں کو تعلیم نہ دلوانے میں چند معاشرتی مسائل ہیں جن میں ایک تو یہ ہے کہ ابھی تک کچھ لوگ پرانے ذہن کے مالک ہیں جو بچیوں کی تعلیم کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے ۔ لیکن اب جیسے لوگوں میں شعور بڑھ رہا ہے لوگ اپنی بچیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر رہے ہیں۔ دوسری وجہ ملک میں لڑکیوں کے سکول کی کمی ہے جس کی وجہ سے کچھ سکول ایسے ہیں جن میں مخلوط تعلیم ہے اور زیادہ تر والدین اپنی بچیوں کو مخلوط تعلیم والے سکولوں یا کالجوں میں جانے پر اعتراض کرتے ہیں ۔ اب تو ایسی یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں آ چکا ہے کہ خواتین گھر میں رہتے ہوئے تعلیم حاصل کر سکتی ہیں ۔ بس ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم ان کی تعلیم میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالیں اور تعلیم حاصل کرنے میں نہ صرف ان کی بھر پور حوصلہ افزائی کریں بلکہ ان کی مدد بھی کریں تا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوں سکیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت پاکستان کی ترقی میں کمی کی ایک وجہ عورتوں کا تعلیم یافتہ نہ ہونا ہے ۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس اہم مسئلہ کی طرف خصوصی توجہ دیں تا کہ خواتین پڑھ لکھ کر مردوں کے کندھے کے ساتھ کندھا ملا کر کام کر سکیں اور ہمارا پیارا ملک پاکستان بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ ہمیں اپنی خواتین کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے اپنے فرض کو سمجھنا ہو گا۔ تعلیم سے ہی بچیوں میں خود اعتمادی آتی ہے تعلیم سے ہی عورت اپنی ذات کو پہچاننے کے قابل ہوتی ہے تعلیم یافتہ خاتون ہی اپنے کنبے اور بچوں کی بہتر دیکھ بھال کر سکتی ہے تعلیم یافتہ عورت ہی معاشرے میں بہتری لا سکتی ہے تعلیم یافتہ عورت ہی ملک کی ترقی کی راہ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے ۔تعلیم یافتہ خاتون باشعور ہوتی ہے تعلیم یافتہ خاتون زندگی کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے تعلیم یافتہ خاتون ہی غربت کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی تعلیم کو بھی یقینی بنایا جائے تا کہ ملک و قوم کی ترقی کے علاوہ اقتصادی خوشحالی بھی ممکن ہو وہ تب ہی ممکن ہے جب ہماری خواتین تعلیم یافتہ ہوں گی سب سے بڑی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں تا کہ ہماری آنے والی نسلیں محفوظ ہو سکیں۔
ہمارے ہاں تو عورتوں کی ایک بڑی تعداد بنیادی تعلیم تک سے محروم ہیں ۔ ہمارے ملک میں لڑکیوں اور خواتین کے لیے سکولوں کی کمی کے علاوہ اعلی تعلیم کے مواقع بھی کم ہیں ۔ ایک تعلیم یافتہ ماں اپنی اولاد کی بہتر تربیت کر سکتی ہے اور وقت پڑنے پر اپنے بچوں کی کفالت کر سکتی ہے ۔ تعلیم عورت کی خود اعتمادی عطا کرتی ہے اور اسے خود پر بھروسہ کرنا سکھاتی ہے ۔ انیسوی صدی کے شروع تک عورتیں اور بچیاں صرف گھریلو غیر رسمی تعلیم تک محدود تھیں مگر اب معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی آئی ہے اور زیادہ لوگ اپنی بچیوں کی تعلیم پر بھی توجہ دے رہے ہیں اور خواتین میڈیکل ، انجینئرنگ ، سائنس ، تجارت ، بینکاری اور صحافت سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی میں کارنامے سر انجام دیتی نظر آتی ہیں ۔ مرد کی تعلیم تو صرف مرد کو فائدہ دیتی ہے مگر عورت کی تعلیم اس کے ساتھ سات نسلوں تک کو سنوار دیتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ ہم بچیوں کی تعلیم کے لیے کوشاں رہیں۔